دنیا کے تین چوتھائی ممالک نے فلسطین کو کیسے تسلیم کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

دنیا کے تقریباً تین چوتھائی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، جس کا اعلان بیرون ملک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی قیادت نے 35 سال سے زیادہ عرصہ قبل کیا تھا۔اس کے بعد مختلف ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے آئے ہیں۔ آج 22 مئی کو تین یورپی ممالک ہسپانیہ، ناروے اور آئرلینڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

سات اکتوبر کو اسرائیلی بستیوں پر حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان سات ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے مطالبات کی بحالی کا باعث بنی ہے اور پوری دنیا میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اقوام متحدہ کے کل 193 ممالک میں سے 142 فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکےہیں لیکن اس میں مغربی یورپ، شمالی امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے زیادہ تر ممالک شامل نہیں ہیں۔

تازہ ترین اعلانات ہسپانیہ ، آئرلینڈ اور ناروے سے آئے ہیں جن میں بدھ کے روز کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ 28 مئی تک فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔

اپریل کے وسط میں امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو ناکام بنا دیا تھا جس کا مقصد فلسطین کو بین الاقوامی تنظیم میں مکمل رکن ریاست دینےدینا تھا۔

1988: آزادی کا اعلان اور فلسطین کو تسلیم کرنے کے ابتدائی فیصلے

15 نومبر 1988 کو اسرائیلی قابض ریاست کے خلاف پہلے فلسطینی انتفاضہ کے آغاز کے تقریباً ایک سال بعد PLO کے رہ نما یاسر عرفات نے الجزائر میں "ریاست فلسطین کے قیام" کا اعلان کیا جس کا دارالحکومت یروشلم قرار دیا۔ یہ اعلان جلاوطن فلسطینی قومی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جس کے چند منٹ کے بعد سب سے پہلے الجزائر نے باضابطہ طور پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا۔

ایک ہفتے بعد چین، بھارت، ترکیہ اور بیشتر عرب ممالک سمیت 40 ممالک نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ افریقی براعظم کے تمام ممالک اور سابق سوویت بلاک نے بھی اس کی پیروی کی اور فلسطین کو تسلیم کرلیا۔

2010ء اور 2011ء میں زیادہ تر وسطی اور لاطینی امریکی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ اس طرح اسرائیل کے اتحادی امریکہ سے اپنی دوری کا اظہار کیا۔

وہ ممالک جو فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں وہ عام طور پر اس ریاست کی سرحدوں کی وضاحت نہیں کرتے جس کو وہ تسلیم کرتے ہیں۔

یاسر عرفات
یاسر عرفات

2012ء: آبزرور اسٹیٹ

اوسلو معاہدے (1993ء) کے تحت قائم ہونے والی اور یاسر عرفات کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی اداروں کی سطح پر ایک سفارتی مہم شروع کی۔

لیکن عرفات نومبر 2012ء میں تاریخی ووٹنگ کا مشاہدہ کرنے سے پہلے 2004 میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے آٹھ سال بعد فلسطینیوں نے اقوام متحدہ میں مبصر ریاست کا درجہ حاصل کیا، مکمل رکنیت اور ووٹنگ کو تسلیم نہیں کیا گیا مگر اسے اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔

اپنی نئی حیثیت کی بنیاد پر فلسطینیوں نے 2015ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شمولیت اختیار کی جس نے فلسطینی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دی۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیمUNESCO نے اکتوبر 2011 میں فلسطینیوں کو مکمل رکنیت دے کر راستہ کھول دیا۔ اس پر بطو احتجاج اسرائیل اور امریکہ نے2018ء میں ’یونیسکو‘ کابائیکاٹ کیا جو 2023ء تک جاری رہا۔

2014: سویڈن یورپی یونین کا پہلا ملک ہے جس نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا

سویڈن جہاں ایک بڑی فلسطینی کمیونٹی رہتی ہے جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ، بلغاریہ، رومانیہ اور قبرص سے پہلے 2014 میں "ریاست فلسطین" کو تسلیم کرنے والا پہلا یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا۔

سٹاک ہوم کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں لیا گیا جب اسرائیل- فلسطین تنازعہ کو حل کرنے کی کوششیں مکمل طور پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھیں، جب کہ سویڈن کے اسرائیل کے ساتھ برسوں کے تعلقات تھے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز

2024: ایک نئی یورپی شروعات

ایک مشترکہ اقدام میں ہسپانیہ ، آئرلینڈ اور ناروے نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ سویڈن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ مغربی ممالک نے ہمیشہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کے پرامن حل تک پہنچنے کے لیے فلسطین کی ریاست کو سرکاری تسلیم کرنے سے منسلک کیا ہے۔

اس سے پہلے 22 مارچ کو مالٹا اور سلووینیا کے ساتھ مل کر تینوں ممالک نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر "حالات مناسب ہوں" تو وہ "ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

9 مئی کو سلووینیا کی حکومت نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا عمل شروع کیا، جس پر پارلیمنٹ 13 جون کو ووٹ دے گی۔

بدھ کے روز پیرس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "شجرممنوعہ ہے" لیکن آج پیرس کے لیے اسے تسلیم کا وقت نہیں ہے۔

آسٹریلیا نے اپریل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے امکان پر بات کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں