سعودی عرب اور جاپان کے درمیان توانائی کے شعبےسمیت مفاہمت کی 30 یادداشتوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور جاپان نے ٹوکیو میں "سعودی جاپان ویژن 2030" بزنس فورم کے موقع پر توانائی، مینوفیکچرنگ اور مالیاتی سرگرمیوں کے شعبوں میں 30 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

کل منگل کو فورم کے دوران جاپان کے وزیر صنعت کین سائتو نے سعودی حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز اور وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کے علاوہ سعودی کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فورم کے دوران سایتو نے کہا کہ سعودی عرب جاپان کو خام تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سب سے اہم شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

دوسری طرف سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے "الغاط" اور "وعد الشمال" کے ذریعے ہوا کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کو کم کرنے میں نئے عالمی ریکارڈز حاصل کیے ہیں۔یہ پروجیکٹس 2030 تک قابل تجدید توانائی کا حصہ 50 فیصد تک بڑھانے کے لیے اس کے منصوبوں کی حمایت کرے گا۔

سعودی انرجی پروکیورمنٹ کمپنی نے بتایا کہ اس نے الغاط ونڈ انرجی پروجیکٹ سے توانائی کی خریداری کے لیے جاپانی ماروبینی کمپنی کی سربراہی میں کنسورشیم کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جس کی صلاحیت 600 میگاواٹ ہے۔ وعد الشمال ونڈ انرجی پروجیکٹ کی صلاحیت 500 میگاواٹ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں