سعودی عرب کے تاریخی بازاروں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز کی وجہ شہرت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تقریباً 5,000 سال قبل ابراہیم علیہ السلام کا حج کے موقع پرمکہ مکرمہ میں تشریف لانا اورفریضہ حج کی ادائی کا آغاز محض ایک مذہبی موقع نہیں تھا بلکہ یہ ایک ثقافتی اور تجارتی نشان تھا جس نے بہت سے عربوں کی ثقافت کو متاثر کیا۔حج ایک مذہبی فریضے کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی روایت بنی جس کے ساتھ شاعری اور ادب بھی پھلا پھولا۔ قدیم عربی شاعری میں حج کے واقعات کا تذکرہ ملتا ہے۔

حج کےساتھ ساتھ حجازمقدس کے کچھ بازار بھی تاریخی طور پربہت مشہور ہوئے۔ جن میں عکاظ، مجنہ اور ذی المجاز نے شہرت دوام حاصل کی۔

عکاظ کی تقریریں اور شاعرانہ بحثیں آج بھی عربوں کے درمیان ثقافتی اور تجارتی مواقع پر تاریخ کے تین مشہور بازاروں کے ذریعے محفوظ ہیں جن میں عرب حج سے پہلے جاتے ہیں۔ وہ ان بازاروں سے خریداری کرتے اور حج کے بعد اپنے ملکوں کو وہاں کی چیزیں نشانی کے طور پر لے کرلوٹتے۔

زمانہ جاہلیت سے تقریباً 1700 سال پہلے زائرین عکاظ بازار کا رخ کرتے۔ اس کے بعد مجنہ بازار اورحج سے قریب ذی المجاز کا سفر کرتے۔ یہ سلسلہ جد امجد ابراہیم علیہ السلام کے دور یعنی پانچ ہزار سال سے جاری ہے۔

انتظامات کے مطابق ذوالقعدہ کے مہینے کے آغاز میں عربوں کا آغاز سوق عکاظ سے ہوتا ہے۔ یہ بازار طائف کے شمال مشرق میں واقع ہے۔یہ سب سے طویل بازار ہے کیونکہ وہاں عرب تقریباً 20 تک قیام کرتے۔ وہاں نہ صرف خریدو فروخت ہوتی بلکہ موسیقی، شاعری، وعظ اور اونٹوں کے مقابلے تک منعقد ہوتے۔

سیرت نبوی ﷺ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول ﷺ نے عکاظ کا پہلا سفر قریش مکہ کی دولت مند خاتون حضرت خدیجہ کے سامان تجارت کے ساتھ کیا۔

عکاظ کے بعد عرب ذی القعدہ کے آخری دس دنوں میں سوق مجنہ کی طرف بڑھتے۔ یہ مکہ کے شمال میں مر الظہران "الجموم" کے مقام پر واقع ہے۔ ایک بازار سے دوسرے بازار کی طرف زائرین کے سفر کا رحجان دراصل دنیا کے تمام حصوں سے آنے والے عربوں کے لیے حج کی خدمات اور ضروریات کے ساتھ عرب بازاروں میں تجارت کی غرض سے ہوتا تھا۔

پیغمبر اسلامﷺ اسلام کی دعوت کے مشن کے تحت مجنہ بازار تشریف لائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے عکاظ کے میلے میں بھی لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اوردوسری بار آپ ﷺ اس بازارمیں نزول وحی کے بعد آئے۔

عرب ذوالقعدہ کے بقیہ دس دن مجنہ بازار میں حج کا مہینہ شروع ہونے تک گزارتے۔ پھر وہاں سے ذی المجاز کی طرف روانہ ہوتے اور ذوالحج کے پہلے آٹھ دن وہاں گذارتے۔ نو ذی الحج کو حج کی غرض سے حرم مکی میں آتے۔

ذو المجاز مارکیٹ مکہ مکرمہ سے 21 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ حج سے پہلے عربوں کی آخری تجارتی اور ثقافتی سرگرمیاں اسی بازار میں ہوتیں۔ یہ بازارقبیلہ ہذیل بازار اور عرب اپنے حج شروع ہونے تک وہاں قیام کرتے تھے۔

اسلام کے آغاز میں مجنہ بازار ایک مدت تک رہا۔ مرور زمانہ کے ساتھ یہ ختم ہوگیا۔ عربوں نے اسے چھوڑ کر دوسرے بازاروں کا رخ کرلیا۔ 129 ہجری تک یہ تینوں بازار ختم ہوگئے اور ان کی جگہ حجاج مکہ اور مشاعر مقدسہ کے نئے بازاروں کا رخ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں