شمالی غزہ ، ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ پر اسرائیلی فوج کا میزائل حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز شمالی غزہ کے علاقے میں ایک ہسپتال پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اسرائیلی میزائلوں کا خصوصی نشانہ تھا۔ میزائل حملے میں ایمرجنسی وارڈ کو نشانے بنائے جانے پر طبی عملے نے ایمر جنسی وارڈ میں موجود بیڈز پر مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال کے عمارتی حصے سے نکالنا شروع کر دیا۔

اس دوران طبی عملے اور مریضوں کو سخت خوف کی حالت میں دیکھا گیا۔ طبی عملہ مریضوں کو بستروں اور سٹریچر پر ڈال کر ایمر جنسی وارڈ سے باہر منتقل کرتا رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز کی حاصل کردہ ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہسپتال کے وارڈ سے مریضوں کو لے کر باہر جانے والا طبی عملہ کس قدر خوف زدہ ہے۔ وہ پریشانی کے اس عالم میں پلٹ پلٹ کر دیکھتا کہ ایمرجنسی وارڈ یا ہسپتال کی عمارت کے دوسرے حصے پر مزید میزائل آرہے ہیں۔

اس دوران طبی عملہ خوف سے مدد کے لیے چیخ رہا اور مریضوں کو محفوظ جگہ کی طرف لے جاتا دیکھا جا سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے داغے گئے پہلے پہلے میزائل سے کمال عدوان ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ کے داخلی دروازےکو نشانہ بنایا گیا ۔

ہسپتال کے سربراہ حسام ابو صفیہ بتا رہے تھے' ایک میزائل کے فوری بعد ہی دوسرا میزائل آ لگا اور پھر تیسرا میزائل ایمر جنسی وارڈ سے ٹکرا گیا۔ اس طرح یہ صورت حال پیدا ہو گئی کہ ہمارے عملے کے لیے وارڈ کے اندر رہنا اور داخل ہونا مشکل ہو گیا۔'

انہوں نے مزید کہا' ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس طرح ہسپتال کا ایمر جنسی وارڈ بھی میزائلوں کی زد پر ہو گا۔ یہ وارڈ تو زخمیوں اور مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرتا ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔ مگر اسرائیلی فوج کے میزائل حملے کا نشانہ آج یہی ایمر جنسی وارڈ بن چکا تھا۔'

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ایک شخس نیلے لباس میں ملبوس ہے اور اسے ایسے لے جارہا ہے جیسے چھوٹے بچے کو جھولے میں ڈالا ہوتا ہے۔، ایک بوڑھے بیمار کو ٹوٹی پھوٹی سی سڑک کے ساتھ اسٹر یچر پر ڈالا کر رکھا گیا تھا۔ہسپتال کا طیی عملے جنہوں نے سفید گاؤن یا سفید لباس پہنا ہوا ہے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

ایک ایمرجنسی ورکر فارس عفانہ بات کرتے ہوئے کہہ رہا ہے جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں طبی عملے اور زخمیوں کو ایمرجنسی وارڈ کے اندر سے نکالنا ہے۔طبی عملہ ہسپتال کی عمارت کو چھوڑ کر باہر نکل گئی ہے ، مگر وہاں بھی بمباری اور اسرائیلی ٹینکوں کے گولوں کو خطرہ موجود ہے۔'

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا نمائندہ اس صورت حال میں ہسپتال کے اندر نہین جا سکا ہے کہ خود دیکھ سکے، یقینا ً میزائلوں کے حملے میں ایسا محال تھا۔ دوسری جانب وزارت صحت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ زیادہ زخمی حالت اور بری حالت والے مریضوں کو فوری طور پر دوسرے ہسپتال ' بیپٹسٹ ہسپتال' اور اکا دکا دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبرئیس نے شمالی غزہ کا العودہ ہسپتال اتوار کے روز سے اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہے۔ ہسپتال کے عملے کے 148 کے ارکان اور سخت بری حالت والے مریض جن کی تعاد اب صرف 22 ہے زیر محاصرہ ہسپتال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور انہین نکالنے کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔'

عالمی ادرہ صحت کے سربراہ جنیوا میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہہ رہے تھے 'کمال عدوان ہسپپتال کے قریب پیدا اس جنگی صورت حال میں مریضوں کی دیکھ بھال مشکل تر ہو چکی ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شمالی غزہ میں صرف یہی دو ہسپتال ورکنگ میں ہیں ، کم از کم ان کی اس حالت کو تو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں