فلسطینی ریاست تسلیم کرنےکا مطلب کیا ہے؟ 'العربیہ' سےپروفیسر محمد محمود مہران کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بدھ کا دن اس حوالے سے اہم رہا کہ اس روز تین یورپی ملکوں آئرلینڈ، اسپین اور ناروے کی قیادت نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پچھلے کئی ہفتوں سے کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔ مگر اب بدھ کے روز یہ اعلان زیادہ ٹھوس ، موثر اور جاندار طریقے سے سامنے آیا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس نے بدھ کو تصدیق کرتے ہوئے کہا ان کا ملک اوسلو اور میڈرڈ کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا 'یہ آئرلینڈ اور فلسطین کے لیے ایک تاریخی اور اہم دن ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مزید ملک بھی اس سلسلے میں ہمارے ہمقدم بنیں گے۔'

دوسری جانب سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ ان کا ملک 28 مئی کو آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جبکہ ناروے کے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے ان کا ملک فلسطین کو باضابطہ طور پر 28 مئی سے ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلے گا۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر اور امریکہ و یورپ کی ایسوسی ایشنز آف انٹرنیشنل لاء کے رکن ڈاکٹر محمد محمود مہران نے اس بارے می ' العربیہ' کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

'العربیہ' کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ 'ناروے اور آئرلینڈ کی طرف سے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کی کافی مضبوط حمایت موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی منظر نامے پر فلسطین کی قانونی حیثیت اور اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کے مواقع پہلے سے بڑھ جائیں گے۔'

پروفیسر مہران کا کہنا ہے 'یورپی ملکوں کا فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی بنیاد بین الاقوامی قانون فراہم کرتا ہے۔ خصوصا اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حق خود ارادیت کے علاوہ 1966 کے شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے میں بھی اس حق کی توثیق پائی جاتی ہے۔'

پروفیسر نے اس تناظر میں اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کا ذکر کیا جن میں فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی توثیق کی گئی ہے۔ ان قراردادوں میں جنرل اسمبلی کی قرارداد 181/ 1947ء بھی شامل ہے۔ جس میں فلسطین کی تاریخی سرزمین پر دو ریاستوں کے قیام کا ذکر ہے۔ نیز سلامتی کونسل کی قرارداد 242 بھی شامل ہے۔ اسی طرح 1967 جس نے اسرائیل کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ اس سرزمین جس پر اس نے جون 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔

اسی طرح انہوں نے 1993 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا اوسلو معاہدے کا حوالہ دیا جس میں فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کے حق کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس کی تصدیق بعد میں 'روڈ میپ ' میں بھی کی گئی۔

دوسرے ممالک کے لیے ایک مضبوط ترغیب

بین الاقوامی تعلقات اور قانون کے ماہر کو توقع ہے کہ ناروے اور آئرلینڈ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کے لیے ایک مضبوط ترغیب کا باعث بنے گا۔ خاص طور پر ان ممالک میں پارلیمانوں اور سول سوسائٹیز کی سطح پر جن کے ہاں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی بڑھتی ہوئی رفتار ہے۔ اس حوالے سے ہسپانوی اور برطانوی پارلیمنٹ کی حالیہ سفارشات میں ظاہر ہوا ہے۔

فلسطین کو تسلیم کرنے کی ممکنہ یورپی لہر فلسطینی مسئلے کے حق میں بین الاقوامی سطح پر ایک موثر عنصر کے طور پر شامل ہو جائے گی کہ یہ محض ایک سیاسی یا انسانی تنازعہ نہیں ہے۔ یہ ایک غیر تسلط پسندی کا بھی ایشو ہے۔ اس لیے بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ حق خود ارادیت اور ریاست کے اصول کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے، نہ کہ محدود اختیارات کے ساتھ صرف خود مختاری یا عبوری اختیار کافی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مہران نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا 'اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور یروشلم کے دارالحکومت کے طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، خطے کے لوگوں کے درمیان استحکام، خوشحالی اور پرامن بقائے باہم کے لیے ایک ناگزیر قانونی، اخلاقی اور سیاسی ضرورت ہے۔'

اپنے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا 'اسرائیل کی بڑھتی ہوئی شناخت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ فلسطین کی ریاست کو اس بنیاد پر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اسی طور اسرائیل کو قانونی حیثیت کے اندر رہنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں