متحدہ عرب امارات اور امریکہ مصنوعی ذہانت کے مزید معاہدے کریں گے: وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت عمر سلطان العلماء نے منگل کو کہا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ تزویراتی شراکت داری کے طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں مزید سرمایہ کاری کریں گے۔

حکومت کی حمایت یافتہ فرم جی 42 کی قیادت میں متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت میں ایک عالمی سرخیل بننے کی کوشش کر رہا ہے اور خلیجی ملک نے تیل پر انحصار کے علاوہ معاشی تنوع پیدا کرنے میں مدد کے لیے اس شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

اس معاملے کی اہمیت اس وقت بڑھ گئی ہے جب امریکہ سے باہر اے آئی کی سرگرمیوں کے لیے ہمسایہ ملک سعودی عرب نے خود کو ایک ممکنہ اے آئی مرکز کے طور پر کھڑا کرنا شروع کر دیا ہے۔

العلماء نے دبئی میں ہونے والی ایک تقریب میں رائٹرز کو بتایا، "چونکہ امریکہ اب متحدہ عرب امارات کو ایک تزویراتی شراکت دار کا درجہ دے رہا ہے اور بدلے میں متحدہ عرب امارات امریکہ کو ایسا ہی درجہ دے رہا ہے تو ہماری سرمایہ کاری کے لحاظ سے آپ قدرتی طور پر مزید سودے ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔"

دونوں کمپنیوں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ مائیکروسافٹ جی 42 میں 1.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا تھا جس سے امریکی کمپنی کو اقلیتی حصہ اور بورڈ کی نشست ملی اور دونوں کے تعلقات کو مستحکم کرنا ممکن ہوا۔

جس معاہدے کے بارے میں دونوں کمپنیوں نے کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کو یقین دہانیوں کی حمایت حاصل تھی، اس کے ایک حصے کے طور پر جی 42 اپنی ایپلی کیشنز چلانے کے لیے مائیکروسافٹ کلاؤڈ سروسز کا استعمال کریں گی۔

بیجنگ کی تکنیکی ترقی کو روکنے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں کے درمیان یہ شراکت داری طے ہوئی ہے جبکہ چین کی فوج کے لیے اے آئی چپس حاصل کرنے کے الزام میں امریکہ نے چار چینی کمپنیوں کو برآمدات کی بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔

چینی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری ختم کرنے کے مزید امکان کے بارے میں سوال پر العلماء نے کہا، "حکومت سے حکومت کے معاملات میں متحدہ عرب امارات ایک غیر جانبدار ملک ہے اور اس لحاظ سے ہم ایک ایسا ملک بننے جا رہے ہیں جو دنیا کو یو اے ای میں کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔"

العلماء نے کہا، توانائی کا متنوع مرکب بشمول جوہری توانائی چھوٹے خلیجی ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر نے کہا، "ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت کی بنیاد پر ہمارے پاس اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی صلاحیت ہوگی۔"

انہوں نے کہا، اس میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز کے بارے میں بات چیت شامل ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں تھا۔

متحدہ عرب امارات نے 2021 سے جنوبی کوریا کا بنا ہوا جوہری پلانٹ چلایا ہے۔ گذشتہ ماہ تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ملک ممکنہ طور پر اس سال مزید چار جوہری ری ایکٹرز کے لیے ٹینڈر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

منگل کو فرانس کے وزیرِ خزانہ برونو لی مائیر نے ابوظہبی کے دورے کے دوران اس بات کی نشان دہی کی کہ پیرس متحدہ عرب امارات کی جوہری توانائی کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے تیار تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ممالک تزویراتی شراکت داری پر دستخط کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں