"پس پردہ کردار" پر نظریں، رئیسی کی موت سے ایرانی رہبر کی جانشینی کے کارڈز تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد اب نظریں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای پر ہیں۔

اگرچہ ایران میں حکومتی نظام کافی پیچیدہ ہے مگر ایسے لگتا ہے کہ ایران میں سنہ 1979ء کے انقلاب کے بعد خمینی کے جانشین کے لیے آیت اللہ علی خامنہ ای کا انتخاب کیا گیا جب کہ خامنہ ای کی جانشینی کے لیے ابراہیم رئیسی پر نظریں لگی تھیں۔

ماہرین کی ایک اسمبلی ملک کی خارجہ پالیسی سمیت تمام اہم امور پر فیصلے کرنے کے لیے تاحیات اس عہدے پر سپریم لیڈر کا تقرر کرتی ہے۔ علی خامنہ ای جن کی عمر 85 سال ہے سنہ 1989ء میں خمینی کی وفات کے بعد سے اس عہدے پر فائز ہیں۔

برلن میں قائم سینٹر کے ڈائریکٹر علی فتح اللہ نژاد کے مطابق جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے خامنہ ای نے رئیسی کو جو "ایک طویل عرصے سے ان کے قریب تھے" کو عدالتی نظام کی سربراہی سمیت کئی اہم عہدوں پر تعینات کیا ہے۔ اگرچہ اس کے بارے میں یہ پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے کہ آیا خامنہ ای نے رئیسی کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔

تجزیہ کار علی فیض اور نیسان رافاتی نے انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایک نوٹ میں کہا کہ ’’صرف چند سینیئر رہ نماؤں کو معلوم تھا کہ رئیسی کے اگلے سپریم لیڈر بننے کے کیا امکانات ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا، کہ "اگر ان کے عہدہ سنبھالنے کا امکان تھا تو ان کی موت خامنہ ای کی جانشینی کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ دیتی ہے"۔

رئیسی کی موت سے کارڈز میں تبدیلی

اب توجہ سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای پر ہے۔ وہ ایک ’پس پردہ کردار‘ ہیں جو بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

علی فتح اللہ نژاد کا کہنا ہے کہ خامنہ ای ایک طویل عرصے سے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اگرچہ حکومت کے اندر "موروثی جانشینی" کا نظریہ مقبول نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن رئیسی کی موت کے ساتھ، خامنہ ای کی جانشینی کے کارڈز میں ردوبدل کیا گیا اور توجہ مجتبیٰ کی طرف لوٹ گئی ہے"۔

مجتبیٰ خامنہ عوام میں کم ہی دکھائی دیتےہیں۔ میڈیا میں بھی ان کا بہت کم ذکر ہوتا ہے اور وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے دفتر میں سپریم لیڈر محمد گولپائیگانی کے پیچھے دوسرے نمبر پر ہیں۔

ان کی اہمیت 2019 میں امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے ان پر عائد پابندیوں کے بعد واضح ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ علی خامنہ ای نے "اپنی کچھ ذمہ داریاں انہیں سونپ دی ہیں"۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سوسن میلونی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو "سب سے اہم امیدوار" سمجھا جاتا ہے اور ان کا "پردے کے پیچھے کافی اثر و رسوخ" ہے۔

تاہم تجزیہ کار کسی اور نام کو آگے بڑھانے سے انکار نہیں کرتے، خاص طور پر ماہرین کی اسمبلی اور پاسداران انقلاب کونسل کے رکن علی رضا عارفی کا حوالہ دیا جاتا ہے جو حکومت کے مسلح ونگ کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں