اسرائیلی فوج نے جنین میں مزید 10 فلسطینی قتل اور 25 زخمی کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بدھ کے روز بھی فلسطینی شہریوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے جنین کے پناہ گزین کیمپ میں مزید دس فلسطینی قتل کر دیے ہیں۔

جنین شہر کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے اوپر سہہ پہر کے وقت دھواں بھی اٹھتا ہوا دکھائی دیتا رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ میں دھماکے اور فائرنگ کی ہے۔ اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑیوں میں سوار فوجی فلسطینیوں پر فائرنگ کرتے رہے۔ ان نشانہ بننے والے فلسطینیوں میں وہ فلسطینی نوجوان بھی شامل تھے جنہوں نے چہروں پر ماسک چڑھائے ہوئے تھے۔

رام اللہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کے اس حملے کے دوران کم از کم دس فلسطینی قتل اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا جنین پناہ گزین کمپ پر یہ حملہ منگل کی صبح شروع ہوا جو بدھ کے دن تک جاری رہا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس کے نمائندے نے منگل کے روز جنین کے خلال سلیمان ہسپتال میں چار فلسطینیوں کی لاشیں دیکھی تھیں۔ جنہیں اسرائیلی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ پر نشانہ بنایا تھا۔

فلسطینی خبر رساں ادارے 'وفا' کے مطابق ان میں ایک فلسطینی سکول ٹیچر اور ایک فلسطینی سٹوڈنٹ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے اس حملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے احمد برکات کے گھر پر کارروائی کی تھی۔ جس کے بارے میں شک تھا کہ وہ مزاحمتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔ اس نے اسرائیلی فوج کے مطابق پچھلے سال مبینہ طور پر اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔

جبکہ میر تماری نامی 32 سالہ فلسطینی پچھلے ہی سال مئی 2023 میں ہو گیا تھا۔ اسے ایک ناجائز یہودی بستی کے داخلی دروازے مغربی کنارے کے علاقے میں ہی شہید کیا گیا تھا۔ یہ بات اس وقت طبی عملے نے اس کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق بدھ کے روز جنین پناہ گزین کیمپ کی گلیوں سے ڈرون حملوں کے نتیجے میں دھواں اڑ رہا تھا اور دھماکوں کی آوزیں آرہی تھیں۔ جبکہ شہر کے مضافات کی طرف اسرائیلی فوج ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا ایک غول جمع کیا گیا تھا۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے مقبوضہ کنارے میں اسرائیلی فوج کے ان حملوں کو اسرائیل فوج کی نسل کشی کے حوالے کے طور پر بیان کیا۔ نیز حماس نے اسرائیلی جنگی جرائم کی بھی ایک گواہی قراردیا ہے۔ کہ اسرائلی فوج کی قابضانہ ذہنیت کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شہید کرنا جاری رکھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمد عباس کے دفترنے بھی بدھ کے روز اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اس سلسلے میں دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا معصوم شہریوں، ڈاکٹروں کی ہلاکتیں اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کے اسرائیلی اقدامات قابل مذمت ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنین پناہ گزین کیمپ فلسطینی کے مزاحمت کاروں کا اہم گڑھ رہا ہے۔ خیال رہے سات اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں 515 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔ فلسطینیوں کی غزہ میں کی گئی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں اور منگل کے روز ان کی تعداد 35709 ہو چکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں