اسرائیل نے حماس کے سات اکتوبرکے حملے کی ویڈیو جاری کردی، مناظرجعلی ہیں:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک نئی میڈیا مہم میں پچھلے چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے ایک فوٹیج نشرکی ہے جس میں پچھلے سال 7 اکتوبر کو ایک فوجی اڈے پر خواتین فوجیوں کوحماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں پکڑے جانے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔

دوسری طرف فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی حکومت کے مخلتف پلیٹ فارمز نشر کی گئی ویڈیو کے مناظر کو جعلی اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

غزہ میں زیر حراست پانچ اسرائیلی خواتین فوجیوں کے اہل خانہ کی جانب سے ان مناظر کو نشر کرنے کی اجازت دینے کے بعد اسرائیلی حکومت سے وابستہ تمام سرکاری اکاؤنٹس نے کلپ کو سوشل میڈیا سائٹس پر نشر کیا ہے۔

تاہم ان میں سے کچھ اکاؤنٹس نے ویڈیو کے ساتھ جھوٹے دعوے شائع کیے ہیں۔

اسرائیلی حکومت نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کل شام دعویٰ کیا کہ اس میں حماس کے جنگجو چیخ چیخ کرکہہ رہے تھے کہ"یہ وہ لڑکیاں ہیں جو حاملہ ہو سکتی ہیں" شاید یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ ان کے ساتھ عصمت دری کریں گے۔

"یہ بزدل ہیں"

جہاں تک ویڈیو نظرآنے والے ایک بندوق برداروں میں سے ایک کو یہ کہتے ہوئے سن سکتا ہے"یہ بزدل ہیں"ْ۔

اس فوٹیج میں جو کہ تین منٹ سے زیادہ دورانیے کی ہے میں حماس کے جنگجوؤں کے حملے کی دو گھنٹے کی ویڈیو سے لی گئی ہے۔اہل خانہ کے مطابق کچھ خواتین فوجی خون آلود چہروں کے ساتھ اپنے پاجامے میں فرش پر بیٹھی ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی خواتین فوجیوں کی گرفتاری کی ویڈیو سے
اسرائیلی خواتین فوجیوں کی گرفتاری کی ویڈیو سے

جب کہ ان میں سے کچھ نے حماس کے جنگجوؤں سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کی۔ ان کے چہروں پر خوف کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔

اس کے بعد انہیں حماس کے ارکان کی چیخ و پکار کے درمیان ایک فوجی جیپ میں شدید گولیوں کی زد میں لے جایا گیا۔

میری بہن کا خون حکومت کی گردن پر ہے

دریں اثنا ایک خاتون فوجی کرینہ اریف کی بہن چوبیس سالہ ساشا اریف نے کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ کام کیا جائے۔ ورنہ میری بہن اور دیگر یرغمالیوں کا خون اسرائیلی حکومت کےسر ہو گا"ْ۔

اس نے مزید کہا کہ "اب ہر کسی نے خواتین فوجیوں کو ان کے نائٹ کپڑوں میں اغوا ہوتے دیکھا ہے۔اب فتح انہیں جلد اور زندہ آزاد کرنا ہے"۔

اس نے مزید کہا کہ اس فوٹیج کو نشر کرنے سے حکومت کے فیصلوں میں "بنیادی تبدیلی" ہونی چاہیے۔

اسرائیلی یرغمال خاندانوں کے فورم نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ "فوٹیجز پرتشدد، ذلت آمیز اور چونکا دینے والے سلوک کو ظاہر کرتی ہیں جس دن خواتین فوجیوں کو پکڑا گیا تھا۔ اس دن ان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا پتا چلتا ہے"۔

درایں اثنا وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ "یہ فوٹیج حماس کے خاتمے تک اپنی پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کو مضبوط کرے گی، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو کچھ ہم نے آج رات دیکھا اسے کبھی دہرایا نہیں جائے گا"۔

ان کے دفتر نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ جنگی حکومت نے اسرائیلی مذاکراتی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ "یرغمالیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات جاری رکھیں"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "ویڈیو کلپ جو تین منٹ اور 10 سیکنڈز پر محیط ہے کو انتہائی ظالمانہ فوٹیج کو حذف کرنے کے لیے سنسر کیا گیا تھا۔ نہال اوز اڈے پر کئی نوجوانوں اور خواتین کا قتل کیا گیا جس کے مناظر ویڈیو میں شامل نہیں کیے گئے۔اس کے علاوہ بہت سے ایسے مناظر بھی شامل ہیں جن میں زبردست بربریت تھی۔ انہیں بھی شامل نہیں کیا گیا"۔

اسرائیلی خواتین فوجیوں کے اہل خانہ کی ویڈیو
اسرائیلی خواتین فوجیوں کے اہل خانہ کی ویڈیو

ویڈیومیں جعل سازی کی گئی ہے:حماس

دوسری جانب حماس نے کل شام نشر ہونے والی ویڈیو پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ ایک جعلی ویڈیو ہے جس میں من گھڑت مناظر اور الفاظ شامل کیے گئے ہیں۔ حماس نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قابض ریاست کے الزامات اور جھوٹ کی حمایت کے لیے "جان بوجھ کر مناظر کو کاٹنا اور من گھڑت تصاویر اور کلپس کا انتخاب کرکے خواتین اہلکاروں پر تشدد ثابت کرنے کی جھوٹی کوشش قابل مذمت ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "کچھ خواتین سپاہیوں کے خون یا معمولی زخموں کے نشانات کی موجودگی اس طرح کی کارروائیوں میں ہوسکتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں بھگدڑ سے بھی لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ اسرائیل نے ویڈیو میں خواتین اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ سات اکتوبر کو نہال اوز بیس پر اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے ارکان نے حملہ کیا تھا جس میں پچاس سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس میں 15 خواتین فوجی بھی ماری گئیں، جن کا مشن اسکرینوں پر سرحدوں کی نگرانی کرنا تھا، جب کہ سات دیگر کو پکڑ لیا گیا۔

جب کہ سات خواتین فوجیوں میں سے ایک کو اسرائیلی فوج کی کارروائی میں رہا کر دیا گیا تھا، جب کہ دوسری لاش غزہ سے ملی تھی اور اسرائیل واپس پہنچا دی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق سات اکتوبر کے حملے کے دوران پکڑے گئے 252 افراد میں سے 124 اب بھی غزہ میں زیر حراست ہیں، جن میں سے 37 ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں