’دریا سے سمندر تک‘ کے نعرے سے’میٹا‘ کمپنی میں نیا بھونچال، نعرے پر پابندی کے مطالبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسے لگتا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنےوالے کارکنوں کی طرف سے لگایا گیا نعرہ ’دریا سے سمندر تک‘ بعض سوشل میڈیا کمپنیوں اور ان کے صارفین کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہا ہے۔

چند روز قبل اس نعرے کی ’فیس بک‘ پر گونج کے بعد ایک نیا تنازعہ شروع ہوا جس کی بازگشت دوبارہ سنائی دی جا رہی ہے اور بہت سے لوگ ’فیس بک‘ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس نعرے کو اپنی ’پالیسی گائیڈ لائن‘ کی خلاف ورزی قرار دے کراسے بند کرائے اور یہ نعرہ لگانےوالے صارفین کے صفحات کو بند کیا جائے۔

فیس بک کی نگرانی کمیٹی نے دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اس بات کا مطالعہ کر رہی ہے کہ آیا اس جملے کو نفرت انگیز گفتگو قرار دیاجائے یا نہیں۔ حالیہ عرصے کے دوران واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک "میٹا" کمپنی کی کمیٹی کو درخواستیں بھیجی گئیں جن میں کہا گیا وہ اس جملے کےاستعال کو روکے۔

کمیٹی کے ترجمان نے وضاحت کی کہ 2,300 سے زیادہ افراد اور تنظیموں نے اس بارے میں رائے دی کہ آیا درخواستوں کو اس جملے کے استعمال کی اجازت جاری رکھنی چاہیے، جسے وہ فلسطینیوں کے حامی سمجھتے ہیں۔

کمیٹی نے فیس بک پر صارفین کی جانب سے اس جملے کے استعمال سے متعلق تین امور کا جائزہ لیا۔ تینوں صورتوں میں فیس بک نے اس جملے کو صارفین کی رائے پر چھوڑ دیا۔

"متنازعہ نقطہ"

’اوور سائیٹ بورڈ‘ نے اس جملے کی اصلیت، لوگ اسے کس طرح معنی میں استعمال کرتے ہیں، آن لائن استعمال میں کیا رجحانات ہیں، اس سے ہونے والے نقصانات اور یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں نے اس کے استعمال پر کیا ردعمل ظاہر کیا ہے سمیت مختلف سوالات پر عوام سے رائے طلب کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’اوور سائیٹ کمیٹی‘ یا اوور سائیٹ بورڈ جسے 2019ء میں میٹا کے ’سی ای او‘ مارک زکربرگ نے قائم کیا تھا میں دنیا بھر سے 22 ممبران شامل ہیں جن میں قانون کے پروفیسرز، سابق سرکاری افسران، صحافی اور یمن کی نوبل امن انعام یافتہ توکل کرمان بھی شامل ہیں۔

اصطلاح "دریا سے سمندر تک" سے مراد دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان جغرافیائی علاقہ ہے، لیکن اس کے وسیع معنی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید بحث اور الجھن کو جنم دیتے ہیں۔

اگرچہ کچھ لوگ اسے محض ایک سیاسی بیان کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے پر قائم ہے، لیکن اسرائیلی اسے پورے خطے پر اس مزعومہ فلسطینی ریاست کی اجارہ داری کے بیانیے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے اسرائیل کو نقشے سے مٹا دینا ہے۔

امریکہ اور بعض یورپی ممالک میں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں کے دوران مظاہرین کی طرف سے لگائے جانے والے نعروں میں اکثر یہ جملہ شامل ہوتا تھا اور ہزاروں افراد نے اسے آن لائن بھی استعمال کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں