ایرانی صدرکی حادثاتی موت اور نیتن یاہوکے وارنٹ گرفتاری،رض خان کے اس ہفتے کے اہم موضوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں اچانک موت کے باعث ایران اس ہفتے دنیا بھر میں خبروں کا موضوع رہا ہے۔ صدر رئیسی کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دوسرے اہم عہدے دار بھی اسی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے ۔ اس طرح ایران سات قیمتی جانیں ایک ساتھ چلی گئیں۔

ابراہیم رئیسی کو کچھ عرصے سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کی طور پر بھی سمجھا جا رہا تھا۔ اس ناطے ایران مزید خبروں کا موضوع بنا ہے کہ سپریم لیڈر کی جانشینی کے معاملے پر اس بڑے حادثے کے اثرات کیا ہوں گے۔

العربیہ کے رض خان نے ایران کے سیاسی ڈھانچے اور اگلے سپریم لیڈر کی جانشینی کے منصوبوں پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

کیونکہ 63 سالہ مرحوم صدر ابراہیم رئیسی اپنے 85 سالہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے اہم امیدوار تھے۔

دوسرا اہم موضع اسی ہفتے کے دوران ' آئی سی سی' کی طرف سے اسرائیلی اور حماس رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر نے کا رہا ہے۔ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی اور حماس قیادت کے اہم ارکان کے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواست دی ہے۔

اس اقدام نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بہت سے ممالک کو ان امور میں تقسیم دیکھا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نے مہذب قوموں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کی مخالفت کریں اور اسرائیلی قیادت پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے عدالتی دعوے کو قبول نہ کریں۔

رض خان کی طرف سے اٹھائے گئے اہم سوالات اور نکات کی یہ قسط اس ڈرامائی اقدام اور اس کے بعد کے رد عمل کے حوالے سے مختلف زاویوں سے دیکھنے کے لیے ہیں۔

اس کے تجزیہ کے مطابق اسرائیل اور حماس کی قیادتوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔ اس ہفتے کی اہم خبروں پر بات کرنے کے لیے، رض خان کے ساتھ ایران میں سابق برطانوی سفیر سر رچرڈ ڈالٹن، وکلاء فرانسس بوئل، ایلن ڈرشووٹز اور طیب علی شامل ہیں۔ جن کے خیالات پوری تفصیل سے پیش کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں