سعودی عرب، ریسٹورنٹ کے کھانے سے زہریلی نمونے مل گئے، ذمہ داروں سے نمٹیں گے: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں نگرانی و انسداد بدعنوانی کے ادارے "نزاہہ" نے کہا ہے کہ ریاض کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آنے والے زہر سے متعلق واقعے میں کسی بھی ایسے شخص کو جوابدہ ٹھہرائے بغیر آگے نہیں بڑھیں گے جو حفاظت یا صحت عامہ میں غفلت یا لاپرواہی کا مرتکب ہو یا تفتیش کاروں کو زہر کے اسباب تک پہنچنے سے دور کرنے کے لیے گمراہ کرنے میں ملوث ہو۔

ادارے ’’ نزاہ‘‘ نے کہا کہ اتھارٹی کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ شواہد کو چھپانے یا تلف کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس میں کچھ کمزور ذہن رکھنے والے مبصرین اور فوڈ اسٹیبلشمنٹ کے انسپکٹرز کی ملی بھگت ہو سکتی ہے۔ ان عناصر نے عوام کی صحت اور حفاظت کی پرواہ کیے بغیر ذاتی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی۔

نزاہہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آنے والے فوڈ پوائزننگ کے واقعے میں گہری دلچسپی لی۔ مجاز حکام نے ہر شہری اور ہر رہائشی کو یقین دلایا ہے کہ اس واقعہ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

وزارت بلدیات اور دیہی امور نے حال ہی میں ریاض شہر کے "ہیمبرگینی" ریسٹورنٹ میں زہر کے کیسز سامنے آنے کے حوالے سے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے تعاون سے "کلوسٹریڈیم بوٹولینم" بیکٹیریا کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ یہ بیکٹیریا بوٹولزم کا سبب بنتا ہے۔ مصنوعات میں "BON TUM" برانڈ کے "مایونیز" کے ایک نمونے میں یہ مادہ پایا گیا۔ وزارت نے اتھارٹی اور متعلقہ حکام کے تعاون سے مذکورہ پراڈکٹ یعنی "مایونیز" کی تقسیم روک دی اور اسے مارکیٹوں اور کھانے پینے کے اداروں سے اٹھوا دیا گیا۔ سعودی عرب کے تمام شہروں میں اس فیکٹری کو کام سے روک دیا گیا اور اس کے خلاف ضابطے کے اقدامات کے نفاذ کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

زہر کے حالیہ بحران نے ریسٹورنٹس میں پیش کیے جانے والے کھانے کی حفاظت اور سرکاری حکام کے اس پر کنٹرول کے معیار کے بارے میں سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ ریاض میونسپلٹی کی تحقیقاتی کمیٹیوں نے فوڈ پوائزننگ کے واقعے کے نتیجے میں "ہیمبرگینی" فوڈ فیسیلٹی کی مذمت کی اور اس ریسٹورنٹ چین کے خلاف باقاعدہ جرمانے عائد کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں