سعودی عرب کی 63 سالہ ھدیٰ العبید کی حائل یونیورسٹی سے گریجوایشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کہتے ہیں کہ علم کے حصول کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ سعودی عرب کی ھدیٰ العبیدہ نے اس کہاوت کو سچ کر دکھاتے ہوئے تعلیم چھوڑنے کے چالیس سال کے بعد 63 سال کی عمرمیں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کرنے کا خواب پورا کیا ہے۔

مطالعاتی سفر کی تفصیلات کے بارے میں العبیدہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘ کو بتایا کہ یونیورسٹی سے میری گریجویشن کی کہانی پڑھائی سے 40 سال کے وقفے کے بعد ایک مشکل سفر تھا۔، خاص طور پر تیاری کے سال میں کافی مشکل پیش آئی کیونکہ انگریزی مضمون کی تیاری کافی مشکل تھی۔ لیکن مین نےکامل مستعدی، محنت اور استقامت کے ساتھ کوشش جاری رکھی۔ آخر کار میں نےاپنے مشن میں کامیاب رہی اور میں نے نمایاں نمبروں کے ساتھ گریجوایشن کا امتحان پاس کرلیا‘‘۔

سب سے اہم رکاوٹیں

ھدیٰ نے گریجوایشن کا امتحان پاس کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ماں ہونے کے ناطے، یونیورسٹی میں بچوں کا ہونا اور بہت سی گھریلو ذمہ داریاں، وقتاً فوقتاً میل ملاقاتیں، خاندانی اور سماجی تقریبات کے علاوہ کئی دوسری رکاوٹیں بھی سامنے آئیں۔ تاہم میں نے استقامت اور محنت کےساتھ ان پر قابو پالیا‘۔

گریجویٹ اپنے بچوں کے ساتھ

اس نے مزید کہا: میں نے علم نفسیات کا انتخاب کیا کیونکہ مجھے نفسیاتی لچک حاصل کرنے کے لیے اپنی، اپنے خاندان اور معاشرے کی خدمت کرنے کی خواہش کی تھی۔ بہت سی نفسیاتی کمزوریوں کی وجہ سے جو میں نے لوگوں میں دیکھی تھی میں نے ایک نفسیاتی تفریحی مرکز کھولنے کا خواب دیکھا تھا مگرمیرےپاس اس کے لیے درکار ڈگری نہیں تھی‘‘۔

ھدیٰ نے اپنے تعلیمی کیرئیر کو مکمل کرنے کے لیے اپنے شوہر کے تعاون پران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری گریجوایشن میں کامیابی کے پیچھےمیرے خاندان، میرے بچوں، میرے بھائی اور میری سہیلیوں کا کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حائل کے گورنر ،ان کے سیکرٹری اور حائل یونیورسٹی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کی طرف سے میری حوصلہ افزائی میری زندگی کے سب سے اہم لمحات تھے جس کا میں نے خواب دیکھا تھا اور محسوس کیا کہ میں نے اپنا خواب پورا کرلیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں