غزہ میں قید بقیہ یرغمالی کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے پہلے ہی روز حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے 252 اسرائیلیوں کو پکڑ کر غزہ میں قید کر لیا تھا۔ ان میں کچھ اب تک ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک بڑی تعداد کو ماہ نومبر میں ہونے والے معاہدے کے تحت رہائی مل گئی تھی۔

تاہم غزہ میں قید کاٹنے والے ان اسرائیلی یر غمالیوں میں سے کتنے لوگ اب تک زندہ ہیں۔ یہ اسرائیل کو معلوم نہیں ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اب تک 112 اسرائیلی یرغمالی زندہ رہائی پا سکے ہیں۔

لیکن جوں جوں ان یرغمالیوں کے بارے میں اسرائیلی و امریکی فکر مندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی رہائی کے لیے کوششوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ ان یرغمالیوں کے بارے میں آپشنز کے علاوہ ان کی درجہ بندی کا معاملہ بھی اہم ہو گیا ہے۔

اس سے قبل خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل اور ادویات کی فراہمی کو جہاں اسرائیلی 'بارگیننگ چپ' کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی وہیں حماس کے مذاکرات کاروں نے بھی ان یرغمالیوں کو اپنے مطالبات کے لیے ' بار گیننگ چپ ' بنانے کی کوشش کی ۔ لیکن اب ان کی درجہ بندی کو مختلف ترجیحات اور اقدامات کے حوالے سے اہم مانا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اب تک جو یرغمالی رہائی پا چکے ہیں ان میں 33 بچے تھے، 49 خواتین تھیں اور 30 مرد شامل تھے۔ گویا اب تک جن یرغمالیوں کو رہائی دی گئی ہے ان میں سب سے بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی رہی ہے۔

ان میں سے غالب اکثریت کو ماہ نومبر کے آخری ہفتے میں وقفے وقفے سے ہونے والی جنگ بندی کے دوران رہائی ملی تھی۔ بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا۔

علاوہ ازیں اسرائیل نے غزہ میں القسام کے ذمہ داروں سے 16 یرغمالیوں کی لاشیں وصول کی ہیں۔ جن میں 3 وہ یرغمالی بھی شامل تھے جنہیں اسرائیلی سنائپرز نے خود فائرنگ کر کے اپنی آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا تھا۔ 22 سالہ جرمن نژاد اسرائیلی کی لاش بھی حاصل کی گئی۔ اس دوہری شہریت کے حامل شانی لوک کی ہلاکت سات اکتوبر 2023 کو ہوئی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کارون نے 37 ہلاک ہو چکے یرغمالیوں کی لاشیں ابھی تک اپنے قبضے میں رکھی ہیں۔ ان میں 25 ان اسرائیلیوں کی لاشیں بھی ہیں جنہیں سات اکتوبر کو گرفتار کیے بغیر ہلاک کر دیا گیا تھا اور ان کی لاشیں ہی غزہ لائی گئی تھیں۔

دلچسپ بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان لاشوں کی حوالگی کا معاملہ اسی طرح کا پرانے وقتوں سے چلا آرہا ہے۔ بہت سے فلسطینی قیدی جن کی جیلوں میں اموات ہو چکی ہوتی ہے ان کی لاشیں بھی دیر تک اسرائیلی جیلوں میں رکھی جاتی ہیں۔

اسی طرح چوک چوراہوں اور چیک پوسٹس پر مارے جانے والے فلسطینی شہریوں کی لاشیں بھی اسرائیلی فوجی اپنی 'کسٹڈی' میں رکھ لیتے ہیں اور بعض اوقات کئی دن ، کئی ہفتے اور کئی ماہ تک یہ لاشیں واپس نہیں کی جاتی ہے۔

اس طرح غزہ میں حماس کے عسکری ونگ ' القسام بریگیڈ ' کے پاس باقی اسرائیلی یرغمالیوں کی بقیہ تعداد 87 بنتی ہے۔ ان میں 79 اسرائیلی ہیں۔ جبکہ چند ایک کی شہریت دوہری بھی ہے۔ اسی طرح ان میں 6 تھائی لینڈ کے رہنے والے ہیں، ایک نیپالی شہری ہے، ایک یرغمالی ایسا ہے جو فرانس اورمیکسیکو کی دوہری شہریت رکھتا ہے۔

علاوہ ازیں دو بچے بھی ان قیدیوں میں شامل ہیں۔ کفیر بباس کو سات اکتوبر کو نو ماہ کی عمر میں اس کی 32 سالہ ماں کے ساتھ غزہ لے جایا گیا تھا۔ یہ خاتون نیر اوز کیبوتز کی رہنے والی تھی۔ اس کے چار سالہ چھوٹے بھائی کو اس کے ساتھ ہی غزہ میں قید رکھا گیا ہے۔ یہ بچے اسرائیلی یرغمالیوں کی مظلومیت کا چہرہ ہیں۔

ان سب کو اسی غزہ میں قید رکھا گیا ہے جہاں اب تک اسرائیلی بمباری سے ہو چکی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 36 ہزار ہے۔ جبکہ فلسطینی بچوں اور فلسطینی خواتین کی ہلاکتوں کی تعداد ان مجموعی ہلاکتوں میں دو تہائی کے قریب ہے۔ کئی بچے اور دوسرے اسی غزہ میں بھوک اور قحط کی وجہ سے بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ تینوں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم اس اسرائیلی کم عمرترین بچے کا والد غزہ میں ہی قید ہے۔ جبکہ اسرائیل کی طرف سے ابھی اس معاملے کی تصدیق کیا جانا باقی ہے۔

اب غزہ میں اس کم عمر ترین اسرائیلی بچے کے علاوہ کوئی دوسرا بچہ تو موجود نہیں ، مگر 18 سال سے 39 سال کی اسرائیلی خواتین فوجیوں کو ابھی رہائی ملنا باقی ہے۔ ان کو القسام بریگیڈ نے ان کی فوجی تعیناتیوں کے دوران اسرائیل سے سات اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔

غزہ میں القسام بریگیڈ کی قید میں اب اسرائیلی مردوں کی باقی تعداد 74 ہے۔ ان کی عمریں 70 اور 80 سال والی بھی ہیں۔ ان کے ساتھ وہ اسرائیلی فوجی بھی ہیں جو سات اکتوبر کو اسرائیلی فوج میں مختلف جگہوں پر تعینات تھے۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے جکہ سات اکتوبر کو القسام بریگیڈ کے اسرائیل پر حملے کے دوران 28 اسرائیلیوں کو نووا میوزک موسیقی میلے سے اٹھایا گیا تھا۔ ان میں سے 5 کو ماہ نومبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں