فلسطینی اتھارٹی کے مالیاتی انحطاط کا خطرہ بڑھ گیا: عالمی بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی بینک نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو مالیاتی تباہی کے امکانات کا سامنا ہے کیونکہ غزہ جنگ کے پس منظر میں آمدنی کے ذرائع ختم اور اقتصادی سرگرمیاں تیزی سے گر رہی ہیں۔

عالمی بینک نے ایک بیان میں کہا، "گذشتہ تین مہینوں میں فلسطینی اتھارٹی کی مالی صورتِ حال ڈرامائی طور پر خراب ہوئی ہے جس سے مالیاتی انحطاط کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔"

نیز عالمی بینک نے کہا، "فلسطینی اتھارٹی کو ادا کیے جانے والے کلیئرنس ریونیو کی منتقلی میں زبردست کمی اور اقتصادی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے محصولات کے ذرائع کافی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔"

آئندہ مہینوں میں اتھارٹی کا خسارہ 1.2 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے مالی اعانت کا فرق دگنا ہو جائے گا جو 2023 کے آخر میں 682 ملین ڈالر تھا۔

فلسطینی معیشت کے 6.5 اور 9.6 فیصد کے درمیان سکڑنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا حالانکہ بینک نے نوٹ کیا کہ مستقبل کی صورتِ حال "انتہائی غیر یقینی" ہے۔

عالمی بینک نے کہا، "بڑھتی ہوئی غیر ملکی امداد اور سرکاری ملازمین اور فراہم کنندگان کے مزید بقایا جات کا جمع ہونا ہی فلسطینی اتھارٹی کے لیے دستیاب مالیاتی اختیارات ہیں۔"

غزہ جنگ کے دوران مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے اور جہاں فلسطینی اتھارٹی محدود حکمرانی کرتی ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق سات اکتوبر سے اسرائیلی فوجیوں یا علاقے میں آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 518 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق اکتوبر 2023 سے فلسطینی معیشت میں تقریباً نصف ملین ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

اس میں ایک اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی میں 200,000 اور اسرائیل میں تقریباً 150,000 ملازمتوں کا نقصان شامل ہے جو مغربی کنارے میں رہنے والے لوگوں کے پاس تھیں۔

عالمی بینک نے کہا، غربت میں اضافہ ہوا ہے اور "اس وقت غزہ کا تقریباً ہر باشندہ غربت میں زندگی گذار رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں