ثالث ملکوں کی مدد سے اسرائیل اور حماس کے مذاکرات اگلے ہفتے پھر شروع ہونے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کرنے والے ملکوں سے متعلق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے ہفتے سے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ اس امر کا اظہار ایک اعلیٰ ذمہ دار نے ہفتہ کے روز کیا ہے۔

اگلے ہفتہ مذاکرات کی اطلاع دینے والے ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی ہے۔ حتیٰ کہ اس ذمہ دار نے اپنے ملک کا نام ظاہر کرنے سے بھی گریز کیا اور کہا یہ معاملہ بہت حساس ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں منقطع ہونے والا مذاکراتی سلسلہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنز ، اسرائیلی موساد چیف ڈیوڈ بارنیا اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان پیرس میں ملاقات طے ہوئی ۔ جس کا بنیادی مقصد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ممکنہ آپشنز پر غور تھا۔

دو روز قبل سے امریکی ذرائع سی آئی اے چیف اور موساد چیف کی ملاقات کے بارے میں اطلاعات دے رہے تھے۔ 7 مئی کو رفح پر حملے سے مذاکراتی عمل کو سخت دھچکا لگا تھا۔ اس کے باوجود حماس کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے کو تیار ہے۔ تاہم اسرائیل نے انکار کر دیا تھا۔

اب جبکہ اسرائیل رفح میں اپنی زمینی فوج اتار چکا ہے اور اسے رفح میں تیسرا ہفتہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر اتفاق ہوا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مزاکرات کی طرف آئیں۔

تاہم یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ مذاکرات ذرائع کے اس دعوے کے مطابق کامیاب ہوجائیں گے۔ کیونکہ اسرائیل رفح سے فوج نکالنے کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود تیارنظر نہیں آتا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگلے ہفتے سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ پیرس میں ہونے والی ملاقات سے جڑا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگلے ہفتے میں امکانی طور پر شروع ہونے والے مذاکرات میں نئی تجاویز پیش کی جائیں گی جن پر ابتدائی طور پر امریکہ اور اسرائیل نے اتفاق کیا ہے۔

اس سے پہلے دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جاتے رہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ تاہم یہ حقیقیت ہے کہ مذاکرات کو چھوڑ کر اسرائیل نے 7 مئی کو رفح پر حملے کو ترجیح دی تھی۔ جبکہ حماس کی طرف سے رفح پر حملے کے بعد بھی مذاکرات کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ کا خاتمہ نہیں کرے گا۔ نیز غزہ کو کسی صورت بھی دوبارہ حماس کے کنٹرول میں نہیں آنے دیا جائے گا اور ایسا کوئی خطرہ دوبارہ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا جس سے اسرائیلی سلامتی کو ایک بار پھر مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔

خیال رہے تقریباً 8 ماہ کو پہنچنے والی اسرائیلی جنگ کے باوجود اسرائیل حماس کے خاتمے اور بزور طاقت اپنے یرغمالیوں کو رہا کرانے میں کامیابی سے ابھی دور نظر آتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں