رفح کی کڑکتی دھوپ میں لوگ فاقوں کا شکار، غزہ سے باہر امدادی سامان سستے داموں فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں مصری سرحد سے متصل شہر رفح میں اسرائیلی کارروائی کے دوران رفح کراسنگ کی بندش سے مصر کے راستے آنے والے امدادی سامان کی بڑی مقدار خراب ہونا شروع ہو گئی ہے جب کہ دوسری طرف رفح اور غزہ کے دوسرے علاقوں میں خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں نے امدادی کارروائیوں کو نہ صرف روک دیا بلکہ انہیں خطرے میں ڈال دیا ہے۔

"امدادی سامان کی فروخت"

امدادی سامان لانے والے ایک ٹرک ڈرائیور محمود حسین نے بتایا کہ ان کے ٹرک پر سامان ایک ماہ قبل لادا گیا تھا اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اس لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کو ٹھکانے تلف کر دیا گیا اور کچھ کو کم قیمت پر فروخت کیا گیا"۔

مصری سرحدی علاقے میں امدادی سامان کے ٹرک: رائیٹرز
مصری سرحدی علاقے میں امدادی سامان کے ٹرک: رائیٹرز

اس نے کہا کہ وہ اتنے دنوں سے ٹرک کے سائے میں پناہ لیے بیٹھا رہا اور کچھ امداد خراب ہو گئی۔ کچھ اس کی قیمت کے ایک چوتھائی میں بیچ دی گئی۔ کچھ کی معیاد ختم ہو گئی ہے جو پیاز ہم لے جا رہے ہیں وہ انسانی خوراک کے قابل نہیں۔ اسے مویشی اور کیڑے ہی کھا سکتے ہیں۔

دو ماہ سے زیادہ پہلے

سیناء میں مصری ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ خالد زاید نے وضاحت کی کہ شمالی سینا تک پہنچنے کے لیے منتظر امداد کا حجم اب بہت زیادہ ہو گیا ہے، اور اس میں سے کچھ کو دو ماہ سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑا ہے۔ اس لیے کھانے پینے کی اشیا پر مشتمل امداد خراب ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ امدادی سامان اور ٹرک دو ماہ سے زائد عرصے سے رفح لینڈ کراسنگ میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کی بندش کا ذمہ دار اسرائیل ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ ٹرکوں کو محفوظ گوداموں کو دوبارہ اتارنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ "کچھ امداد ایسی ہے جس کے لیے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے ایک خاص حد تک ٹھنڈک درکار ہوتی ہے۔ ہم خوراک اور طبی سامان کو محفوظ رکھنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر تربیت یافتہ خصوصی افراد کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں‘‘۔

سورج کے تپش سے خراب ہونے والے انڈے رفح میں ضائع کیے جا رہے ہیں: : رائٹرز
سورج کے تپش سے خراب ہونے والے انڈے رفح میں ضائع کیے جا رہے ہیں: : رائٹرز

سعودی عرب کی طرف سے مالی امداد فراہم کرنے والی ایک خیراتی تنظیم شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز کے جنرل سپروائزر عبداللہ الربیعہ نے کہا کہ اس مرکز کے پاس 350 سے زائد ٹرک موجود ہیں، جن میں خوراک اور طبی سامان بھی شامل ہے۔ یہ تمام ٹرک رفح کراسنگ کھلنے کے منتظر ہیں سڑکوں پر کھڑے ٹرکوں پر سامان خراب ہونے لگا ہے اور ہم نے کئی ٹرکوں سے آٹار اتار دیا۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ جہاز امداد لے کر آتے ہی مگر اس سامان کو غزہ میں متاثرین تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گلے سڑے انڈے

درایں اثنا مصری وزارت سپلائی کے مقامی حکام نے تصدیق کی کہ شمالی سیناء کے مقامی بازار میں کچھ غذائی اشیاء کم قیمت پر فروخت کی گئیں جب کہ کچھ خراب انڈوں کو ضبط کر کے تلف کر دیا گیا۔

جہاں تک غزہ کے اندر کا تعلق ہے تو کھانے کے معیار کے بارے میں بھی خدشات تھے جو انتظار کے بعد اور رفح کراسنگ کی بندش سے پہلے یا دوسری کراسنگ سے گذرے تھے۔

غزہ میں حماس کے زیر انتظام سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثابتہ نے کہا کہ فلسطینی طبی اور پولیس اہلکار جو غزہ میں آنے والے سامان کا معائنہ کرتے تھے اسرائیلی حملے کے دوران ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

مسری سرحد کے اندر غزہ امداد لیجانے والے ٹرکوں کی قطار: رائٹرز
مسری سرحد کے اندر غزہ امداد لیجانے والے ٹرکوں کی قطار: رائٹرز

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی بہت سی اشیا انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں ہیں اور مضر صحت ہیں۔ اس لیے وزارت صحت نے یہ وارننگ شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے مقصد سے جاری کی ہے کہ وہ امداد کی شکل میں ملنے والے سامان کی جانچ کے بعد اسے استعمال کریں‘‘۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد اکتوبر کے آخر میں رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ تک امداد کی ترسیل شروع ہوئی تھی مگر دو ہفتوں سے رفح کراسنگ بھی بند ہے۔ رفح مصر کے ساتھ غزہ کی واحد راہ داری ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی دنیا سے زمینی رابطہ ممکن ہے مگر اب یہ کراسنگ بھی اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں