وقت ختم ہو رہا، یرغمالیوں کو واپس لایا جائے: اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے جمعہ 24 مئی کو اعلان کیا کہ اسے سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تین یرغمالیوں کی لاشیں غزہ کی پٹی سے ملی ہیں۔ اس کے بعد اسرائیلی شہریوں میں یرغمالیوں کے تحفظ اور واپسی کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے بھی اس حوالے سے انتباہ کیا ہے۔

یائر لاپڈ نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ تین قیدیوں کی لاشیں ملنے کی خبر پر بہت صدمہ ہوا۔ انہوں نے تینوں قیدیوں حنان یابلونکا، مشیل نیسنبام اور اورین ہرنینڈز کی تصویر کے اوپر لکھا کہ یہ چونکا دینے والی اور تکلیف دہ خبر دل دہلا دینے والی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 125 مغوی اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ ان کی بازیابی کے امکانات وقت کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں۔ انہیں جلد از جلد واپس لانے کے لیے سب کچھ کیا جانا چاہیے۔ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کی طرف واپس جانے کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حکومت زندہ ہوں یا نہیں یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سخت ترین تنقید کی ہے۔ انہوں نے جنگ میں ناکامی اور اپنے یرغمالیوں کو واپس لانے میں ناکامی پر نیتن یاھو سے اقتتدار چھوڑ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یاد رہے حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کے دوران پکڑے گئے 252 اسرائیلیوں میں سے 124 اب بھی غزہ کی پٹی میں ہیں۔ ان میں سے بھی اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق 37 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں