ٹورنٹو یونیورسٹی میں جنگ مخالف طلبہ کااحتجاجی کیمپ، پولیس کایونیورسٹی خالی کرنے کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنگ کی مخالفت کرنے والے یونیورسٹی طلبہ کو یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ انہیں سبزہ زار کو بھی جنگ مخالف مظاہروں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس لیے وہ یہاں سے نکل جائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ، ٹورنٹو انتظامیہ اور پولیس اسرائیلی جنگ کے مخالف طلبہ کو فلسطین کے حامی اور یہود دشمن کے طور پر پیش کرتی ہے ، جیسا کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں کیا جا رہا ہے۔

ٹورنٹو پولیس نے جمعے کے روز سے ہی یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں غزہ میں اسرائیلی جنگ کو روکنے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے لگائے گئے کیمپ کے اردگرد پوسٹر لگا دیے کہ یونیورسٹی کے سبزہ زار میں یونیورسٹی طلبہ کا اس طرح موجود رہنا اور احتجاجی کیمپ لگانا تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔

یونیورسٹی طلبہ کو خبر دار کیا گیا کہ اگر انہوں نے یونیورسٹی کو خالی نہ کیا اور یہ 'تجاوزاتی سلسلہ' نہ روکا تو ان کے خلاف قانونی و تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کی طرف سے لگائے گئے نوٹسز میں ان جنگ مخالف طلبہ کو کہا گیا ہے کہ وہ پیر کی صبح 8 بجے تک احتجاجی کیمپ ختم کر دیں۔ بصورت دیگر پولیس کیمپ اکھاڑ دے گی۔

واضح رہے ٹورنٹو یونیورسٹی میں بھی امریکہ اور یورپ کی بہت سی یونیورسٹیوں کی طرح جنگ مخالف طلبہ نے اپنے احتجاجی کیمپوں میں ہی رات کو ٹھہرنے اور رات کے وقت بھی احتجاج کو جاری رکھنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں سے کئی طلبہ نے جنگ بندی کا مطالبہ منوانے کے لیے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ یہ طلبہ 2 مئی سے احتجاج کر رہے ہیں۔

اس سے قبل کئی کینیڈین یونیورسٹیز کے جنگ مخالف طلبہ کے ساتھ پولیس نمٹ چکی ہے۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کینیڈا کے چند بڑے اور عظیم تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ تاہم اس کے سربراہ نے اس ہفتے زیادہ سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔

یونیورسٹی صدر میرک گیلٹلر کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے لگایا گیا کیمپ لازماً ختم کیا جانا چاہیے۔ اگر طلبہ نے خود احتجاجی علاقے کو خالی نہ کیا تو انہیں یونیورسٹی سے زبردستی نکال دیا جائے گا۔

کینیڈا کی اس عظیم درسگاہ میں یہ احتجاج اس وقت جاری ہے جب آنے والے دنوں میں سالانہ تقریب متوقع ہے جس میں 62000 طلبہ کی شرکت متوقع ہے۔

واضح رہے جمعرات کے روز ہارورڈ یونیورسٹی میں بھی طلبہ کی گریجوایشن کی تقریب ہوئی ہے۔ جہاں بہت سے طلبہ نے غزہ جنگ کے خلاف اس تقریب سے واک آؤٹ کیا۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی طرح کینیڈا کی اس عظیم درسگاہ میں بھی تقریب کے موقع پراسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج سامنے آسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں