ہر چار میں سے ایک شامی ’انتہائی غریب‘ ہے: ورلڈ بینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی بینک نے کہا کہ ایک چوتھائی سے زیادہ شامی انتہائی غربت میں رہتے ہیں۔ 13 سال تباہ کن خانہ جنگی میں گذرے جس نے معیشت کو نقصان پہنچایا اور لاکھوں افراد کو غربت کی سطح سے نیچے کردیا۔

عالمی بینک نے شام کے بارے میں دو نئی رپورٹیں شائع کیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ "27 فیصد شامی تقریباً 5.7 ملین افراد انتہائی غربت میں رہتے ہیں"۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022ء میں آنے والے مہلک زلزلے میں انتہائی غربت کی سطح میں مزید اضافہ ہوا۔

اس زلزلے سے ملک میں تقریباً 6000 افراد ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام کے تقریباً 90 فیصد لوگ غربت کی زندگی گذار رہے ہیں، جب کہ اس سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ تقریباً 20 لاکھ افراد ایک دہائی سے زائد جنگ کے بعد انتہائی غربت میں زندگی گذار رہے ہیں۔

رپورٹ میں 2019ء کے آخر میں ہمسایہ ملک لبنان کی اقتصادی خرابی، COVID-19 کی وبائی بیماری اور یوکرین میں جنگ کا حوالہ دیا گیا۔ ان وجوہات کی بنا پر حالیہ برسوں میں شامی گھرانوں کی فلاح و بہبود کو ختم کر دیا گیا ہے۔

شام میں خانہ جنگی نے معیشت، انفراسٹرکچر اور صنعت کو بھی تباہ کر دیا ہے جب کہ مغربی پابندیوں نے ملک کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

عالمی بینک نے کہا کہ "مسلسل فنڈنگ کی کمی اور انسانی امداد تک محدود رسائی" نے غریب شامیوں کی زندگی مزید تنگ کر دی ہے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ضروری خدمات تک رسائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری" کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ 2024ء میں شام کے لیے اس کے انسانی ہمدردی کے ردعمل کے منصوبے کے لیے 4 بلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس صرف چھ فیصد فنڈ ہے۔

عالمی برادری پیر کو برسلز میں ایک سالانہ عہد ساز کانفرنس میں شام کے لیے فنڈز جمع کرنے کی کوشش کرنے والی ہے۔

مواقع کی کمی اور کم ہوتی امداد نے بہت سے شامیوں کو زندہ رہنے کے لیے بیرون ملک رشتہ داروں کی طرف سے بھیجی گئی رقم پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کی "حقیقی جی ڈی پی میں 2024 میں 1.5 فیصد کمی کا امکان ہے، جب کہ 2023ء میں 1.2 فیصد کمی ریکاڈ کی گئی تھی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں