ہوٹلوں میں قیام کے دوران نکاح نامے کی شرط کی مخالفت کرنے والے وزیرپر عوام برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی نے ہوٹلوں میں مردو خواتین کے مخلوط قیام کے حوالے سے نکاح نامے کی شرط پر اعتراض کرکے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔

وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے نوٹ کررہے ہیں کہ ملک کے ہوٹلوں میں جوڑوں کے قیام کے لیے ان سے نکاح نامہ یا نکاح کی تصدیق مانگی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ غیرقانونی اور لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت ہے۔

"غیر قانونی"

وہبی نے گذشتہ منگل کوپارلیمنٹ کے دوسرے چیمبر’ہاؤس آف ایڈوائزرز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹلوں میں شہریوں کو کمرے دینے پر رضامندی سے قبل شادی کا تصدیق نامہ (نکاح نامہ) مانگا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ غیرقانونی عمل ہے۔ 20 سال میں اس شرط کی حمایت کرنے والی قانونی بنیادوں کو تلاش کر رہا ہوں جو بھی ان دستاویزات کو لازمی قرار دیتا۔ اس شرط کے تحت نکاح کے بغیر جوڑوں کو ہوٹلوں میں قیام کی اجازت نہیں دی جاتی اور ان کےخلاف عدالتی تعاقب کیا جاتا ہے‘‘۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

عبداللطیف وہبی کے اس بیان پر مراکش میں سوشل میڈیا پر ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ ملے جلے رد عمل میں کچھ لوگوں نے وزیر موصوف کے بیان کو اسلامی تعلیمات کے خلاف اور بے راہ روی کو فروغ دینے کی کوشش قرار دیا جبکہ کچھ صارفین شہریوں کی پرائیسوی کے دفاع میں ان کے موقف کی حمایت بھی کررہے ہیں۔

قانون گو وکیل عبدالرحمن الباقوری نے ’فیس بک‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "ہوٹل انتظامیہ جس کا کوئی شرعی طور پر آپس میں کوئی ازدواجی تعلق نہیں کو ایک کمرہ کرائے پر دین غیرخلاقی اور ازدواجی بے وفائی کے جرم میں برابر کے قصوروار ہونے کے مترادف ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ضابطہ فوجداری کے باب 498 میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی جسم فروشی کے عمل کی مدد یا حفاظت کرتا ہے اسے ایک سے پانچ سال تک قید اور 5 لاکھ سے ایک ملین درہم جرمانے کی سزا دی جائے گی‘‘۔

"بدکاری کی واضح حوصلہ افزائی"

سماجی کارکن عماد افیلال نےکہا کہ وزیر انصاف عبداللطیف وہبی کا موقف "ہوٹلوں کے اندر بدعنوانی اور زنا کی واضح حوصلہ افزائی کے مترادف ہے، جو کہ قانون کے مطابق قابل سزا جرم ہے‘‘۔ بلاگر عبداللطیف حسنی نے کہا کہ وہبی نے جو کہا وہ غیر معقول ہے۔ اس سے ملک میں بے راہ روی کی حوصلہ افزائی ہوگی‘‘۔

اسی تناظر میں کارکن حاتم خالدی کا خیال ہے کہ ہوٹل کے مالک کی طرف سے مہمانوں سے شادی کا معاہدہ دکھانے شرط اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جگہ کسی بھی قسم کی غیراخلاقی حرکات سے پاک ہے۔۔

عبداللہ السعیح نامی ایک اور کارکن کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں سے نکاح نامہ طلب کرنا سکیورٹی کا معاملہ ہے۔ یہ وزارتِ داخلہ کے تابع ہے نہ کہ وزارتِ انصاف کے"۔

"نجی زندگی"

دوسری طرف سماجی کارکن نبیل حورانی نے وزیر انصاف کی رائے کی حمایت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ "ریاست کب تک لوگوں کی نجی زندگیوں میں اپنی ناک جمائے گی۔ انفرادی آزادی ایک سرخ لکیر ہے اور اسے حکام مداخلت سے محفوظ رہنا چاہیے‘‘۔

شہریوں سے شادی کےنکاح ناموں کا مطالبہ کرنے والے ہوٹلوں کے غیر قانونی ہونے کے بارے میں وزیر انصاف عبداللطیف وہبی کے بیانات کے بعد ہاؤس آف کونسلرز ، انصاف چیمبر،قانون سازی اور انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں