اسرائیلی جنگی کابینہ کا غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اجلاس آج متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار نے اتوار کو ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہےکہ غزہ کی پٹی میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے شام کو جنگی کابینہ کی میٹنگ متوقع ہے۔

اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ "یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے جنگی کابینہ آج رات نو بجےیروشلم میں ملاقات کرے گی"۔

دوسری جانب حماس کے رہ نما عزت الرشق نے اتوار کے روز کہا کہ حماس کے ساتھ ثالثوں کی جانب سے اس بارے میں کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہیں کوئی علم نہیں کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے کیا بات چیت ہو رہی ہے۔

الرشق نے ٹیلی گرام کے ذریعے مزید کہا کہ "اس وقت فوری طور پر پوری غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کو مستقل طور پر اور مکمل طور پر روکا جائے۔ صرف رفح میں کارروائیاں روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے لوگ اسی کا انتظار کر رہے ہیں اور یہی بنیاد اور نقطہ آغاز ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ناقابل تردید سچائی یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو قیدیوں کو قتل کرتے ہیں اور وہ قیدیوں یا ان کے اہل خانہ کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ ادھر ادھر گھومتے پھرتے اور غلط تاثر دیتے کہ انہیں ان کی پرواہ ہے۔ وہ جارحیت کو جاری رکھنے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

کل ہفتے کو اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور حماس کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کرنا ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ دونوں فریقین کے وفود قطری دارالحکومت دوحہ کا دورہ کریں گے۔

نشریاتی ادارے نے وضاحت کی کہ اسرائیلی اعلان سہ فریقی اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں اسرائیلی انٹیلی جنس (موساد) کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، قطری وزیر اعظم الشیخ محمد عبدالرحمان آل ثانی اور ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے شرکت کی۔

درایں اثنا محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج رفح کے کئی علاقوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی خاص طور پر رفح پر بمباری کی۔

اتوار کی صبح، حماس نے اعلان کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے خلاف گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوج ہلاک اور کئی کو پکڑ لیا گیا ہے۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنے توپ خانے اور طیاروں سے بمباری تیز کردی تھی۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے ایک غیر مسبوق حملے میں 1,170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیلی فوج کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق حملے کے دوران 252 افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں سے 121 اب بھی غزہ کی پٹی میں زیر حراست ہیں، جن میں سے 37 ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیل، جس نے حماس کو "ختم" کرنے کے عزم کے تحت غزہ میں تباہ کن جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سات اکتوبر سے پٹی پر اسرائیلی جنگ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 35,984 ہو گئی ہے جب کہ 80,420 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size