اصل نسل کشی غزہ میں کی جا رہی ہے، سپین اسرائیل بارے کھل کر بول پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپین کی خاتون وزیر دفاعے نے یورپی ملکوں میں سے سب سے بڑھ کر اسرائیل کی غزہ میں تقریباً آٹھ ماہ سے جاری جنگ کو بے نقاب کرتے ہوئے پورا سچ بول دیا ہے۔

سپین کی وزیر دفاع مرگریٹا روبلز نے کہا ہے ' غزہ میں جنگ اصل نسل کشی ہے۔' ان کا یہ بیان ہفتے کے روز اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل سپین کے ساتھ پہلے ہی بہت ناراض ہو چکا ہے کہ سپین نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز 'نے یورپ کے اس اہم ملک کے ان کھلے خیالات کے بارے میں اسرائیلی رد عمل حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ابھی کامیاب نہیں ہوا۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل پر لگائے گئے نسل کشی کے الزامات اور اس بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں دائر کردہ مقدمے پر اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تردید کر چکا ہے۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ سات اکتوبر سے جاری ہے۔ اب تک اس جنگ میں 35903 فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں۔ ان فلسطینی مقتولین میں دو تہائی کے قریب فلسطینی عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہین جو اسرائیلی ناکہ بندی اور خوراک کے غزہ پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے سے پیدا شدہ بھوک اور قحط کی وجہ سے ہلاک ہو ہے ہیں۔

تاہم اسرائیل کو یورپ کی ہر طرح کی مشیری اور مشینوں کا سہارا ہے، جس کی بنیاد پر وہ نسل کشی کے ان الزامات کی دھڑلے سے تردید کر سکتا ہے۔ لیکن سپین کی وزیر دفاع نے پہلی بار یورپ سے اگر مگر سے پاک گفتگو میں دو ٹوک اور واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ اصل نسل کشی تو غزہ میں کیا جا رہی ہے۔

وزیر دفاع مارگریٹا روبلز سپین کے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دے رہی تھیں۔ اس سے پہلے سپین کی نائب وزیر اعظم نے نے بھی اسرائیل پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔ ان کا یہ بیان اسی ہفتے کے شروع میں آیا تھا۔

مگر وزیر دفاع نے مزید بڑھ کر کہہ دیا ہے کہ ' ہم غزہ میں کی جانے والی اس نسل کشی کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے اس موقع پر روس کے یوکرین پر حملے اور افریقہ میں لرائی کا بھی ذکر کیا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مہم اسرائیل کے خلاف نہیں ہے، یہ تو غزہ میں جاری تشدد کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیل کے خلاف ہے نہ اسرائیلیوں کے خلاف ہے۔ہم ان سب کی عزت کرتے ہیں ، تاہم غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے ۔'

خیال رہے سپین آئر لینڈ اور ناروے کے ساتھ یورپی ملکوں کے اس گروپ میں شامل ہے، جس نے اسی ہفتے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، علاوہ ازیں بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالت انصاف سے بھی اسرائیل کے بارے میں آنے والی خبروں میں فی الحال سب اچھا نہیں ہے۔ اسرائیل اس بارے میں سیخ پا ہے۔

جنوبی افریقہ نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کا مرتکب قرار دلانے کے لیے 1948 کے نسل کشی کنونش کو بنیاد بنایا ہے جس کی اسرائیل خلاف ورزی کر رہا ہے۔

سپین کے وزیر خارجہ مینوئل الباریز نے بھی ہفتے کے روز کہا ہے اسرائیل کو عدالتی فیصلوں کو لازماً ماننا چاہیے۔ انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں