مصرمیں وزارت داخلہ کی استاد کی طرف سے طلبا کو پستول سے ڈرانے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک اسکول میں استاد کی طرف سے طلبا کو اپنی پستول سے ہراساں کرنے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

جنوبی مصر میں سوہاج گورنری میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک تنازعہ چل رہا ہے جس میں ایک اسکول کے طلبا کو استاد کی طرف سے پستول سے ڈرانے کے واقعے پر والدین کا رد عمل سامنے آیا ہے۔

وزارت داخلہ کی سکیورٹی سروسز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" پر شائع ہونے والی تفصیلات کا انکشاف کیا کہ سوہاج گورنری کے ایک اسکول میں طالب علموں کے متعدد والدین کو ایک استاد نے اپنے ہی آتشیں اسلحہ سے خوف زدہ کیا۔

اسلحہ لے جانے کی اجازت

واقعے کی جانچ پڑتال کے بعد استاد کی شناخت کی گئی جو مذکورہ اسکول کا سکیورٹی اہلکار بھی تھا۔ اس کے پاس حفاظت کے لیے عارضی اجازت نامے کے تحت آواز بنانے والی پستول کے استعمال کا لائسنس تھا۔

ٹیچر اسکول کے اوقات میں اسکول کے اندر بندوق سے لیس تھا، جس کی وجہ سے اسکول میں طلباء کے والدین میں عدم اطمینان اور رد عمل کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

اسے طلب کرنےکے بعد لائسنس یافتہ اسلحہ واپس لے لیا گیا اور شرائط کی خلاف ورزی پر لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ جاری کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں