ایم بی سی اکیڈمی کے سعودی اور شرقِ اوسط کے گریجوایٹس کی کانزمیں کامیابی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب اور شرقِ اوسط کے طلباء نے اس ہفتے سعودی ایم بی سی گروپ کے تعلیمی و تربیتی پلیٹ فارم ایم بی سی اکیڈمی سے گریجویشن کیا جو میڈیا اور پروڈکشن کے شعبے میں علاقائی فنکاروں کی دریافت، ان کی مہارتوں میں اضافہ اور پرورش کرتا ہے۔ اس کا اعلان 77ویں سالانہ کانز فلمی میلے کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا۔

30 گریجویٹس – 15 اداکاری کے اور 15 فلم سازی کے طلباء جنہوں نے فلم انڈسٹری کے قلب میں اپنی سخت تربیت مکمل کی ہے – کے لیے یونیورسٹی کوٹ ڈی ایزور کے کیمپس جارجز میلیس میں ایک گریجویشن تقریب منعقد کی گئی۔

اس پروگرام میں سال بھر کی جائزہ ویڈیوز کی نمائش کی گئی جس میں طلباء کی پسِ پردہ مناظر کی فوٹیج، شو ریلز، اشتہارات اور مختصر فلمیں شامل تھیں جس کے بعد مختلف نمائندگان نے تقاریر کیں۔ اس تقریب نے طلباء کو دنیا بھر کے میڈیا پروفیشنلز کے ساتھ رابطہ سازی کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔

ایم بی سی اکیڈمی کی سی ای او زینب ابو السمح نے کہا: "ہم فلم ساز کا سکالرشپ حاصل کرنے والے اپنے تازہ ترین طلباء کی خوشی مناتے ہوئے بہت مسرور ہیں۔ فلم سازی یا اداکاری کی تعلیم حاصل کرنے والے بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ان افراد نے کانز فلم فیسٹیول 2024 میں شرکت کرنے کے ناقابلِ یقین موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے جذبے اور سرشاری کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ ہمارے گریجویٹس رابطہ سازی اور ممکنہ مواقع کا تعاقب کر کے اس تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو مستقبل میں پرجوش تعاون اور کامیاب منصوبوں کا باعث بن سکتے ہیں۔"

انہوں نے بات جاری رکھی: "ایم بی سی اکیڈمی میں ہمیں ان کی کامیابیوں پر بہت فخر ہے۔ ہمارا تازہ ترین پروگرام ہمارے شراکت داروں ای ایس آر اے اور جنریشن 2030 کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ دونوں نے ان طلباء کی پرورش، انہیں اعلیٰ معیار کی تربیت، رہنمائی، اور پروجیکٹ بنانے اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "اس گریجویشن تقریب نے 'گھر سے دور ایک گھر' کے منفرد مرکز کا کام کیا ہے جہاں مقامی، علاقائی، اور عالمی تخلیق کار، پروڈیوسرز اور فلم ساز مجتمع ہوئے۔"

ایم بی سی اکیڈمی کا آغاز 2020 میں مملکت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی میڈیا انڈسٹری کے لیے سعودی فنکاروں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ اس تازہ ترین گروہ کا انتخاب شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کے 400 سے زیادہ درخواست دہندگان میں سے کیا گیا تھا۔

طلباء و طالبات کے لیے ایک سرکردہ یورپی فلم سکول میں سخت تربیت ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہت بڑا موقع تھی۔

گریجوایٹس کے اس تازہ ترین دور کے لیے ایم بی سی اکیڈمی کے شراکت دار ای ایس آر اے اور جنریشن 2030 تھے۔

ای ایس آر اے کے کینز کیمپس میں پروگرام کے مرکز جو ایک مشہور 50 سالہ فرانسیسی فلم سکول ہے، نے طلباء کو عالمی معیار کی سہولیات اور ہدایات تک رسائی فراہم کی۔

ای ایس آر اے کے ڈائریکٹر تھیری کولارڈ نے کہا: "ای ایس آر اے کوٹ ڈی ایزور کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس نے کانز میں پہلی بار اداکاری اور فلم سازی میں 30 سعودی طلباء کا خیرمقدم کیا۔"

فرانسیسی تنظیم جنریشن 2030 نے بھی سکالرشپ پروگرام میں تعاون کیا۔ اس گروپ کا مقصد مختلف تخلیقی شعبوں میں تربیتی منصوبوں کے ذریعے فرانس اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی ربط بنانا ہے۔

جنریشن 2030 کی سربراہ سوہا الحربی نے کہا: "ہم اس منفرد پروگرام کے نتیجے پر خوش ہیں جو سعودی فنکاروں کی آئندہ نسل کی تربیت کرتا ہے۔"

ایم بی سی اکیڈمی کے سابقہ گریجویٹس پہلے ہی اینیمیشن، فلم سازی اور میڈیا کے دیگر شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔

اب تک کے قابلِ ذکر سابق طلباء میں ریحام یاشار شامل ہیں جو اب گیم ڈویلپمنٹ کمپنی میں کریکٹر کریٹر ہیں۔ گریجویٹ موزون البوگومی نے "حکاوتی نیشن" شو کے لیے ایم بی سی اکیڈمی کی اینیمیٹڈ کہانی لکھی۔ حسین القروس ایک اور گریجویٹ ہیں جنہیں ایک مختصر اینی میشن فلم "ڈو اٹ" بنانے کا اعزاز حاصل ہے جو کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی ہے۔

ابو السمح نے کہا، "میں بہت پر امید ہوں کہ چند سالوں میں ہم ان میں سے بعض طلباء کو کانز فلم فیسٹیول میں خود ان ہی کا کام پیش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں