اسرائیل کی طرف سے ہسپانوی ثقافتی علامت کو سکینڈلائز کرنا قابل مذمت ہے: سپین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی طرف سے جاری کردہ ایک ہسپانیہ کی ثقافتی علامت اور ہسپانوی موقف کی ویڈیو کو سکینڈلائز کیے جانے کی حرکت کی سپین نے مذمت کی ہے۔ اہم بات ہے کہ یہ ویڈیو اسرائیلی وزیر خارجہ نے خود جاری کی ہے جس میں سپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا مضحکہ اڑایا گیا ہے اور سپین کو طنزاً کہا گیا ہے۔ ' شکریہ سپین۔'

اسرائیل تین یورپی ملکوں ناروے، آئرلینڈ اور سپین کی وجہ سے سخت تکلیف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیو ہے کہ ان تینوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، نیز سپین نے غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی نشاندہی کی ہے۔

وزیر خارجہ کاٹز نے اتوار کے روز ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔ جس میں تحری ہےکیا گیا ہے' حماس : شکریہ سپین۔'

ویڈیو میں سپین کے پرچم کے ساتھ فلیمینکو میوزک پر ایک جوڑے کو ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے۔۔اس میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے غزہ پر جاری اپنی جنگ کا جواز بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ غزہ کی جنگ جس میں اب تک 36ہزار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے ہلاک کیا ہے ، سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کا رد عمل ہے۔

اس بارے میں سپین کے وزیر خارجہ مینوئل الباریس نے ایک نیوز کانفرنس میں ک کہا ہے ' ہم مشتعل نہیں ہونا چاہتے، ویڈیو کو سکنیڈلائز انداز میں پیش کیا گیا ہےجو قابل مذمت ہے۔'

سپین کے وزیر خارجہ نے کہا ' پوری دنیا حقائق جانتی ہے اس لیے ویڈیو سکینڈلائز کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اسرائیل میں میرے یہ رفیق کار بھی جانتے ہیں۔ سپین نے حماس کا حملے کی بھی مذمت کی تھی۔ لیکن اس ویڈیو میں ہسپانوی ثقافتی علامت کو استعمال کیا گیا ہے۔'

خیال رہے سپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے ہفتے کے روز برے کھلے الفاظ میں یہ کہا تھا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے سپین کے نائب وزیر اعظم نے بھی اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب ہی قرار دیا تھا۔

اسرائیل کے میڈرڈ میں سفارت کانے نے اس بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا ' ہمیں افسوس ہے کہ وزیر دفاع نے غزہ کے بارے میں ایک دہشت گرد تنظیم حماس کی بیان کردہ کہانی کو قبول کر کے اس کی تائید کر دی۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں