ایمنسٹی انٹرنیشنل کاعالمی فوجداری عدالت سے مہلک اسرائیلی حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے تین حالیہ حملوں کی بطورِ جنگی جرائم تحقیقات کرے جس میں 32 بچوں سمیت 44 فلسطینی شہری ہلاک ہوئے۔

گذشتہ ہفتے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے شبے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور حماس کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواست دی تھی۔

ایمنسٹی نے کہا کہ تین اسرائیلی حملے – ایک وسطی غزہ میں المغازی مہاجر کیمپ پر 16 اپریل کو اور دو جنوبی غزہ میں رفح پر 19 اور 20 اپریل کو – غزہ میں اسرائیلی فوج کے "جنگی جرائم کے وسیع تر نمونے کا مزید ثبوت ہیں۔"

ایمنسٹی میں سینیئر ڈائریکٹر ایریکا گویرا روزاس نے کہا، "یہاں درج کردہ کیسز گذشتہ سات ماہ کے دوران حملوں کے واضح نمونے کی عکاسی کرتے ہیں جن میں اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اس نے فلسطینی شہریوں کو مکمل بے خوفی کے ساتھ ہلاک کیا ہے اور انسانی جانوں کی بے حرمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔"

حقوق کی تنظیم نے حملوں کی خود تحقیقات کی ہیں جن میں 17 زندہ بچ جانے والوں اور گواہان کا انٹرویو کیا اور ایک ہسپتال کا دورہ کیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ نے کہا کہ 16 اپریل کو المغازی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں چار تا 15 سال کی عمر کے 10 بچے اور پانچ مرد مارے گئے اور مزید کہا کہ ایک درجن سے زائد رہائشی زخمی ہوئے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ گولہ بارود بازار کی سڑک کے وسط میں گرا جہاں بچے فوس بال ٹیبل کے گرد کھیل رہے تھے۔

جابر نادر ابو جائب کے دو بچے ہلاک ہو گئے

34 سالہ شخص نے ایمنسٹی کو بتایا، "مجھے اپنی بہن کا بیٹا محمد (12 سالہ) ملا۔ وہ بری طرح زخمی تھا اور دو دن بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔"

نیز انہوں نے کہا، "پھر مجھے اپنی بیٹی ملی۔" وہ چار سال کی تھی۔

"وہ بری طرح زخمی تھی اور اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن جب میں تقریباً ایک گھنٹے بعد ہسپتال گیا تو پتا چلا کہ اس کی کچھ ہی دیر بعد موت واقع ہو گئی تھی۔"

انہوں نے اپنی نو سالہ بچی کے بارے میں کہا، "پھر میں نے اپنی بیٹی لوجان کو دیکھا، وہ مر چکی تھی۔"

'میرے بچوں کے جسم کے اعضاء'

انسانی حقوق کے گروپ نے کہا کہ رفح میں دو دنوں میں دو حملوں میں 29 شہری ہلاک ہوئے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ 19 اپریل کو مغربی رفح میں ابو رضوان خاندان کے گھر پر اسرائیل کی جانب سے بم حملہ کیا گیا جس میں چھے بچوں سمیت خاندان کے نو افراد ہلاک ہو گئے۔

گروپ نے بتایا کہ 20 اپریل کو مشرقی رفح میں ایک حملے نے عبداللال خاندان کا گھر تباہ کر دیا جس میں 16 بچوں سمیت خاندان کے 20 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ متأثرین سو رہے تھے۔

گھر کے مالک حسین عبداللال اپنی والدہ، دو بیویوں اور 10 بچوں سے محروم ہو گئے جن کی عمریں 18 ماہ سے 16 سال تک تھیں۔

انہوں نے ایمنسٹی کو بتایا، "مجھے اپنی ماں اور اپنے بچوں کا جو کچھ بھی مل سکتا ہے، اسے ملبے میں تلاش کرتا رہتا ہوں۔ ان کی لاشوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔"

نیز انہوں نے کہا، "مجھے اپنے بچوں کے چیتھڑے اور جسم کے اعضاء ملے۔ وہ سروں کے بغیر تھے۔"

ایمنسٹی نے کہا کہ عبداللال کے گھر کو پہنچنے والا نقصان فضائی حملے کی وجہ سے تھا۔

تینوں حملوں میں ایمنسٹی کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسرائیلی افواج کے نشانہ بنائے گئے مقامات پر یا ان کے آس پاس کوئی فوجی اہداف موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں