مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے مضبوط فلسطینی اتھارٹی کی ضرورت ہے۔: جوزپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے ک مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک زیادہ مضبوط فلسطینی اتھارٹی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس خواہش اور ضرورت کا اظہار اتوار کے روز فلسطینی وزیر اعطم محمد مصطفیٰ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا ہے۔

وزیر اعظم محمد مصطفیٰ اتوار کے روز برسلز میں تھے ، جہاں وہ یورپی حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے گئے ہیں۔ جوزپ بوریل نے ایک متحرک اور فعال فلسطینی اتھارتی اسرائیل کے مفاد میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر امن ممکن ہو سکتا ہے ، ایک کمزور اتھارٹی کے ذریعے نہیں۔'

محمد مصطفیٰ سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا یہ غزہ سے حماس کی حکمرانی ختم کرنے کے بعد کے انتظامات کس طرح فلسطینی اتھارٹی کو مل سکتے ہیں اس بارے میں بات چیت کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعطم کا کہنا تھا وہ اس ملاقات کو ایک اہم موقع سمجھتے ہیں کہ غزہ کی نئی حکمت کے لیے بین الاقوامی شراکت دار ایک خاکہ اور منصوبہ بنا سکیں گے جو آنے والے وقتوں میں ہمارے کام آئے گا۔

محمد مطفیٰ نے کہا ان کے نزدیک پہلے قدم کے طور پر اور پہلی ترجیح کے طور پر ہمارے سامنے غزہ میں جنگ بندی ہے۔ اس سے اگلے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کرنا ہے۔

واضح رہے 2007 سے غزہ پر حماس کی چلی آرہی ہے غزہ کے لوگوں نے حماس کو اپنے ووٹوں کی بنیاد پر اکثریت سے جتوایا تھا جس کے نتیجے میں حماس کی غزہ میں منتخب حکومت وجود میں اگئی تھی۔ لیکن بعد فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کے لیے یہ قابل قبول سیاسی ماحول نہیں تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے کہا ' ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ فلسطین کے فنڈز کو واپس کرے، ہم اپنی اتھارٹی کی سطح پر اپنے اداروں میں بھی اصلاح کرنے پر بھی تیار ہیں۔'

برسلز میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین باتھ ایڈے کے زیر صدارت اجلاس میں شرکت کی۔ جس میں 1993 کے اوسلو معاہدے تحت فلسطینی اتھارٹی کی فنڈنگ اور دوسری مدد کے موضوعات زیر بحث رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں