مغربی کنارے میں حماس کے صدر یاسین ریبع اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں حماس کے دفتر کے سربراہ یاسین ربیع اور تنظیم کے ایک رہ نما خالد النجار کو رفح شہر پر کیے گئے فضائی حملے میں ہلاک کردیا ہے۔

پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے علاقے "تل السلطان" پر فضائی حملے کی تصدیق کی جس میں "دہشت گرد" حماس کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا۔

فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا کہ "جنگی طیاروں نے حال ہی میں رفح میں دہشت گرد تنظیم حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جس میں تنظیم سے وابستہ نمایاں تخریب کار موجود تھے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ " حملےمیں تخریب کاروں کو نشانہ بنایا گیا جو بین الاقوامی قانون کی دفعات کے تحت ایک جائز ہدف ہیں۔ گائیڈڈ ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پیشگی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرحملہ کیا گیا جو حماس کے تخریب کاروں کی جانب سے اس علاقے کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس دعوے کو جانتے ہیں کہ علاقے میں چھاپے اور آگ لگنے کے نتیجے میں متعدد غیر متعلقہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کے حالات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں"۔

فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزینوں کے کیمپ پر بمباری کے بعد رفح کے رہائشی محلوں پر 3 اسرائیلی حملے کیے نتیجے میں 30 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران UNRWA کے 10 سے زیادہ نقل مکانی کے مراکز پر بمباری کی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد کے کیمپ پر بمباری کے لیے 7 میزائلوں کا استعمال کیا۔رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ کا قتل عام اس علاقے کے ہسپتالوں کی خدمت سے محروم ہونے کے ساتھ کیا گیا تھا"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی فوج پہلے نشانہ بنائے گئے علاقوں اور نقل مکانی کے مراکز کو "محفوظ علاقے" سمجھتی تھی، لیکن اس نے انہیں پھر بھی نشانہ بنایا گیا‘‘۔

غزہ میں شہری دفاع نے کہا کہ رفح کے شمال مغرب میں جس علاقے کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا ہے اس میں ایک لاکھ بے گھر افراد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں