العربیہ خصوصی رپورٹ

’مجھے ا٘ن ایئر دہشت زدہ نہ کیا جائے‘ العربیہ اینکر کا ایرانی دانشور کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’العربیہ‘ نیوز چینل کی خاتون اینکر رشا نبیل نے ایرانی محقق عباس خامہ یار کی فلسطینی عوام کی مدد میں لاپراہی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے انہیں سخت الفاظ میں جواب دیا۔ رشا نے کہا کہ ’مجھے آن ایئر دہشت زدہ نہ کیا جائے‘۔

اس مباحثے میں اتوار کی شام ایرانی دانشور نے’العربیہ‘ پر "آؤٹ آف دی باکس" پروگرام میں گفتگو کی تھی۔

غزہ جنگ کے حوالے سے العربیہ خاتون اینکر پرسن نے کہا کہ برسوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ حماس کو سات اکتوبر کے بعد ایران سے یا لبنان میں حزب اللہ سے مثال کے طور پر یہ توقع تھی کہ بڑی حمایت ملے گی، لیکن غزہ میں فلسطینی عوام کو "اسرائیل" کے سامنے ذبح ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی طرف سے اسرائیل کو محدود جواب دیا جا رہا ہے اور فلسطینی عوام اس جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہم یہ سوال کرتے ہیں "فلسطینی کاز اور اس کے لوگوں کے لیے ایران کی انسانی حمایت کہاں ہے؟"

ایرانی محقق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "یہ معاملات آپ نے العربیہ اور نارملائزیشن کے حامی چینلوں نے اٹھائے ہیں"۔

انٹرویو لینے والی خاتون اینکر نے کہا کہ "میں آپ سے ایک سوال پوچھا ہے؛ آپ اس کا جواب یہ کہے بغیر جواب دے سکتے ہیں کہ 'یہ عام یا غیر فطری ونگ ہے'۔ ان فقروں سے ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے جن کا آپ نے ابھی ذکر کیا ہے۔

رشا نبیل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ "جس ادارے کے لیے میں کام کرتی ہوں اس کا تعلق ایک ایسی مملکت سے ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں۔ یہ ریاست تعلقات کو معمول پر لانے کی حدیں طے کرنے کے لیے کوشاں ہے، جن میں سب سے اہم فلسطینی ریاست کا قیام ہے‘‘۔

مہمان محقق نے اینکر کی بات سن کر ان پر"اصل میں دہشت گرد" ہونے کا الزام لگایا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے العربیہ براڈکاسٹر نے کہا ہم نے مہمان محقق کو اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کا موقع دیا ہے۔ "کیا یہ العربیہ نہیں ہے جو آج آپ کے نقطہ نظر کے اظہار کے لیے آپ کی میزبانی کر رہا ہے؟"

ایرانی مہمان نے اس جواب پر چینل پر ’’غیر پیشہ ور‘‘ ہونے کا الزام عائد کیا، لیکن العربیہ براڈکاسٹر نے اس کے جواب میں کہا کہ ہماری پیشہ ورانہ جانچ اور جائزہ "ناظرین پر منحصرہے نہ کہ آپ پر"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں