اسرائیلی حزب اختلاف کا گٹھ جوڑ، نیتن یاہو حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا بحران سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کی ’منی حکومت‘ میں شامل وزراء کی طرف سے دھمکیوں کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نیتن یاھو کے خلاف متحرک ہو رہی ہے۔

اسرائیلی ’کے اے این‘ نیوز نیٹ ورک کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تختہ الٹ کر نئی حکومت بنانے کی تیاریاں کی گئی ہیں، کیونکہ اپوزیشن لیڈر، "دیر اِز فیوچر" پارٹی کے سربراہ یائر لپیڈ،"اسرائیل بیتونا" پارٹی کے سربراہ ’آوی گیڈور لائبرمین‘ اور ’نیو ہوپ‘ کے صدر گیدون ساعر کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔ وہ نیتن یاہو کی جگہ ایک متبادل حکومت بنانے پر بات کریں گے۔

نئی حکومت

حزب اختلاف کے ذرائع نے بتایا کہ تینوں جماعتیں حکومت کا تختہ الٹنے اور مختلف جماعتوں کو اکٹھا کر کے نئی حکومت بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

اس نے کہا کہ اس متبادل حکومت میں جنگی کونسل کے رکن بینی گینٹز کو شامل کرنے کا ارادہ ہے۔

تینوں جماعتوں کے سربراہان قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات میں تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہی ذرائع نے وضاحت کی کہ سہ فریقی ملاقات ان ملاقاتوں سے پہلے ہورہی ہے جن میں حالیہ عرصے میں لپیڈ اور لائبرمین کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

حکومت کا تختہ الٹ دیں

کل اپنی پارٹی کے اجلاس کے آغاز میں لائبرمین نے لپیڈ، ساعر، اور گینٹز سے حکومت کا تختہ الٹنے اور موجودہ کنیسٹ یا متبادل طور پر قبل از وقت عام انتخابات کے لیے ایک مشترکہ اتحاد بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لپیڈ (اپوزیشن لیڈر) نے کہا کہ اپوزیشن میں وہ گینٹز کے جنگی کابینہ سے دستبردار ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا"۔

دو ہفتے قبل جنگی کونسل کے ممبران بینی گینٹز اور گیڈی آئزن کوٹ نے جنگی کیبنٹ سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی اور نیتن یاہو کو چھ جون تک کا وقت دیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے بعد کے منصوبوں کی منظوری دیں، کیونکہ دونوں وزراء وزیراعظم کی طرف سے جنگ کے بعد غزہ میں اسرائیلی کنٹرول کے فیصلے سے متفق نہیں۔

یہ خبر نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے درمیان تنازعہ میں اضافے کے درمیان سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر جب گیلنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو پر حملہ کیا اور غزہ میں اسرائیلیوں کی مستقل موجودگی کے ان کے منصوبوں پر تنقید کرنے کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے انہوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔

نیتن یاہو کو اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی طرف سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے جو تل ابیب میں مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں تاکہ ان پر حماس کے ساتھ ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں