سپین،آئرلینڈ اورناروے نےفلسطینی ریاست کوتسلیم کرلیا،ڈبلن میں فلسطینی پرچم لہرادیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مغربی یورپ سے تعلق رکھنے والے تین ملکوں نے منگل کے روز فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تینوں ممالک سپین ، آئرلینڈ اور ناروے نے اسی ماہ اس سلسلے میں اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ہیں۔ 28 مئی کو اس کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

تینوں مغربی ملکوں نے یہ فیصلہ اسرائیل پر عالمی برادری کا دباؤ بڑھانے کی غرض سے کیا ہے تاکہ حماس کے پچھلے سال سات اکتوبر کو کیے گئے حملے کے جواب میں حد سے بڑھے ہوئے اور تباہ کن اسرائیلی جواب کی صورت طویل جنگ کو روکنے میں کردار ادا کر سکیں۔

اسرائیل نے اس اہم پیش رفت کا کوئی اثر لینے کے بجائے اپنے روایتی سرکشی کے سے انداز میں اس سہ ملکی فیصلے کی مذمت کی ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ اس کا کوئی فوری اثر غزہ کی جنگ پر نہیں ہو گا۔

سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کےسلسلے میں اپنی قوم سے سے ٹی وی پر خطاب کیا ۔ ان کا کہنا تھا یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ جس کا واحد مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کو امن کی طرف لانا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے اس خطاب کے فوری بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ' سانچیز کی حکومت یہودیوں کی نسل کشی کے لیے انگیخت کرنے اور جنگی جرائم کا سبب بن رہی ہے۔

آئرلینڈ اور ناروے بھی جلد اس معاملے میں سپین کے ساتھ آ ملنے والے ہیں ، جیسا کہ انہوں نے پچھلے ہفتے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا ہے آئرش وزیر اعظم سائمن ہیرس نے اپنی کابینہ کے اجلاس کے باضابطہ اجلاس سے قبل کہا ' یہ ایک اہم لمحہ ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک دنیا کے لیے پیغام ہے کہ وہ چاہے تو ایک قوم کو جائز امید دلانے کے لیے عملی اقدام بھی کر سکتی ہےاور دو ریاست حل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔'

خیال رہے آئرش کابینہ کا اجلاس اسی سلسلے میں باقاعدہ منظوری کے لیے بلایا گیا ہے۔ ادھر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین بارتھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے' 30 سال سے زیادہ عرصے سے ناروے فلسطینی ریاست کا ایک مضبوط ترین وکیل رہا ہے۔آج ناروے سرکاری طور پر فلسطین کو تسلیم کر رہا ہے۔ یہ فلسطین اور ناروے کے تعلقات میں ایک بڑا سنگ میل ہے۔

بہت سے ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے مگر کسی بڑے مغربی ملک ابھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ لیکن ان تین یورپی ملکوں کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کیا جانا فلسطینیوں کی بڑی کامیابی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں