عرب اور یورپی وزرائےخارجہ اجلاس میں دو ریاستی حل پر زور دیا گیا: شہزادہ فیصل بن فرحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین بارتھ ایڈے نے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ امور اور خارجہ و سلامتی پالیسی کمیٹی کے سربراہ جوزپ بوریل کے ہمراہ غیر معمولی مشترکہ عرب ۔ یورپی وزرائے خارجہ اجلاس کی صدارت کی۔

یہ اجلاس 26 مئی بہ روز اتوار کو بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہوا۔

برسلز اجلاس گذشتہ اپریل میں ریاض اجلاس کے تسلسل کا حصہ ہے جس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کی فوری ضرورت پر بات چیت کی گئی تھی۔ اجلاس میں غزہ میں جنگ روکنے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے عرب امن اقدام کو آگے بڑھانے میں مدد دی جا سکے۔

فوری جنگ بندی

اجلاس میں رفح پر حملے بند کرنے، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے سمیت فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے غزہ جنگ کے حوالے سے انسانی ہمدردی کی کوششوں اور امداد کے تعطل پر اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا۔

اجلاس میں غزہ کے بحران کو ختم کرنے اور تنازعے حل کرنے کی انتہائی ضرورت کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں ہونے والی تمام غیر قانونی کارروائیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قانون اور متفقہ معیارات کے مطابق دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے ناقابل واپسی اقدامات کرنے کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا۔

دو ریاستی حل کے فریم ورک کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی حمایت اور اسے ریاست کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطینیوں اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ خطے میں اعتدال اور امن کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کو تسلیم کریں تاکہ تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جاسکے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام ممالک کا مقصد ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کا حصول ہے جس سے فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ ہو اور اسرائیل سمیت خطے میں سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں