نیتن یاہو اسرائیلی جنگی کونسل کو تحلیل کرنے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی جنگی کونسل کے ارکان بینی گینٹز اور گیڈی آئزن کوٹ کی جانب سے کونسل سے دستبردار ہونے کی دھمکی اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد کے منصو بے کے لیے چھ جون تک کی مہلت دینے کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد نیتن یاھو نے متبادل آپشنز کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے۔

باخبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم جنگی کونسل کو تحلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ انتہائی دائیں بازو کے دو وزراء ایتمار بین گویر اور بیزلل سموٹریچ کوحکومت میں شامل کرنےکے کی راہ ہموار کرسکیں۔

دو وزراء کا تقرر ضروری

اگر گینٹز اور آئزن کوٹ دستبردار ہو جاتے ہیں تو نیتن یاہو توسیع شدہ حکومت سے دو دیگر وزراء کو ان کی جگہ پر تعینات کرنے کے پابند ہوں گے۔ دوسری طرف بین گویر اور سموٹریچ کونسل میں شامل ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہی ذرائع کے مطابق گینٹز اور آئزن کوٹ کی جنگی حکومت میں شمولیت نے نیتن یاہو کو حکمت عملی اور حتیٰ کہ تزویراتی سطح پر فیصلے کرنے کی اجازت دی جس نے انہیں اپنے اتحاد کے دائیں بازو کے ارکان کے سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا۔

ایتمار بن گویر
ایتمار بن گویر

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے درمیان اختلافات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ گیلنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں نیتن یاہو پرتنقید کی۔ انہوں نے غزہ میں مستقل اسرائیلی موجودگی کے نیتن یاھو کے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق تقریباً دو ہفتوں سے دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔

سکیورٹی تفصیلات لیک کرنے کا الزام

حال ہی میں نیتن یاہو نے گیلنٹ پر حساس سکیورٹی میٹنگوں کی تفصیلات لیک کرنے کا الزام لگایا۔ وزیراعظم نے اس سے قبل ایک حکومتی میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ "جب بھی میں وزیر دفاع اور موساد اور شین بیت کے سربراہوں کے ساتھ محدود ملاقاتوں کے لیے بیٹھتا ہوں، سب کچھ لیک ہو جاتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ "میں جانتا ہوں کہ وہ موساد کا سربراہ یا شین بیت کا سربراہ معلومات لیک نہیں کرتا، تو یہ کون ہو سکتا ہے؟"

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ لبنان کے ساتھ سرحد کے دورے کے دوران
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ لبنان کے ساتھ سرحد کے دورے کے دوران

قابل ذکر ہے کہ دو ہفتے قبل گیلنٹ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے بعد کے معاملے پر فیصلہ لیں۔ اس مسئلے پر فیصلہ نہ لینے میں ناکامی اسرائیل کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے گیلنٹ کی تنقید کے اگلے دن کہا تھا کہ وہ اپنے وزیر دفاع سے بات کریں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں