دو ریاستی حل کے بغیر امن کا حصول ناممکن ہے:سعودی عرب، اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور اردن نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ فوری طور پر بند کرنے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے حصول کی خاطر فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے۔

اسپین کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے زور دے کر کہا ہے کہ میڈرڈ تاریخ کی درست سمت کھڑا ہے۔

انہوں نے آج بدھ کو میڈرڈ میں غزہ پر عرب ۔ اسلامی کمیٹی کی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دو ریاستی حل کا وقت آ گیا ہے۔ دو ریاستی حل کے بغیر خطے میں دیر پا امن کا حصول ناممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی ریاست کا قیام ہی امن کا ضامن ہوسکتا ہے، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں‘‘۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

’’امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے‘‘

اس موقعے پر اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اسپین کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو تاریخی اقدام قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اسرائیل کی دھمکیوں کے باوجود اسپین کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "غزہ میں جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کا وقت آگیا ہے‘‘۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی حاصل ہو گا"۔

اسپین، ناروے اور آئرلینڈ

کل منگل کو تین یورپی ممالک اسپین،ناروے اور آئرلینڈ نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران ہسپانوی حکومت نے سرکاری طور پر ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا حکم نامہ منظور کیا، جس کا اعلان پیڈرو سانچیز کی حکومت کے ترجمان نےباضابہ طور پرکیا۔

گزشتہ روز ناروے اور آئرلینڈ نے بھی سرکاری طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔

دوسری جانب تینوں ممالک کے فیصلے سے اسرائیل سخت برہم ہے اور اس نے میڈرڈ، اوسلو اور ڈبلن سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے جبکہ تینوں ممالک کے سفیروں کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں