سعودی عرب:دارالحکومت میں ہریالی کو دوگنا کرنے کے لیے "گرین ریاض فاؤنڈیشن" کا قیام

سعودی عرب کا گرین مڈل ایسٹ انیشی ایٹو سیکرٹریٹ کو 2.5 ارب ریال کا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں کو مجتمع کرنے میں سعودی عرب کی دلچسپی کے تحت خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سربراہی میں کابینہ کے اجلاس نے "گرین ریاض فاؤنڈیشن" کے نام سے ایک نئے ادارے کے قیام کی منظوری دی ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے منظور شدہ اقدام مملکت کی جانب سے ہریالی کو فروغ دینے اور مزید پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے کی جانے والی مساعی کو دوگنا کر دے گا۔ جس طرح سنہ 2021ء میں اپنے آغاز کے بعد سے سعودی گرین انیشیٹو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو بڑھانے اور توانائی کی منتقلی کے سفر اور پائیداری کو تیز کرنے، کاربن کے اخراج کو کم کرنےاور سبزے کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنے سبز اقدامات کے ذریعے سعودی عرب پورے ملک میں 10 ارب درخت لگانا چاہتا ہے جو کہ 40 ملین ہیکٹر اراضی کی بحالی اور ملک کے قدرتی سرسبز مقامات کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا کے معیار کو بہتر بنانے، ریت کے طوفانوں کو کم کرنے اور گرد و غبار کو کم کرنے کا باعث بنے گا۔

ریاض کے علاقے کے میئر فیصل بن عبدالعزیز بن عیاف کا کہنا ہے کہ "گرین ریاض فاؤنڈیشن" کے قیام کی منظوری اس لامحدود حمایت کے تسلسل کے طور پر حاصل کی گئی ہے جو ریاض کو قیادت کی جانب سے پہلےبھی حاصل ہے۔ اس حوالے سے حالیہ برسوں میں کئی دیگر اقدامات اور کوششیں کی گئی ہیں جن سے شہر اور اس کے رہائشیوں کےمعیار زندگی کو بہتر بنانے کی خاطر جنگلات، ہیومنائزیشن اور سبزے کی مقدارمیں اضافہ کی کوششیں شامل ہیں۔

وزراء کونسل کی طرف سے اعلان کردہ اقدام سعودی گرین انیشی ایٹو کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر تیار کرنا ہے جو سبز قدرتی جگہوں کو بحال کرے، پودوں کی نشوونما میں اضافہ کرے، درجہ حرارت، گلوبل وارمنگ کو محدود کرے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کو کم کرے۔ ان اہداف کا حصول سعودی عرب کے وژن 2030 کے پروگراموں اور اہداف میں شامل ہے۔ ویژن 2030 کے ذریعے تیار کیے گئے اقدامات میں گرین ریاض پروجیکٹ بھی شامل ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ پرجوش شجرکاری منصوبوں میں سے ایک ہے۔

شہر کے مراکز کو درختوں کی کثافت میں اضافے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔اس سے درجہ حرارت 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوگا۔ اس طرح ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی۔ دنیا بھر کے شہری علاقوں میں بلند درجہ حرارت اور فضائی آلودگی سب سے زیادہ عام ماحولیاتی خطرات میں سے ہیں۔ ان کی وجہ سے غیر متعدی بیماریوں جیسے دل، شریان اور سانس کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور موسمیاتی امور کے ایلچی عادل الجبیر نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ماحولیات کے تحفظ میں دلچسپی رکھتا ہے، جس کا ثبوت مملکت کی جانب سے گرین مڈل ایسٹ انیشیٹو کے سیکرٹریٹ کو2.5 بلین ڈالر کی امداد فراہم کرنا ہے۔

سبز اقدامات میں سعودی عرب کی دلچسپی کے تناظر میں کابینہ نے اس ماہ کے شروع میں ایک فیصلہ جاری کیا جس میں ہر سال 27 مارچ کو "سعودی گرین انیشیٹو ڈے" کےطور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔اس حوالے سے ایک دن منانے کا مقصد ماحولیاتی مسائل سے نجات اور درختوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عوام میں بیداری پیدا کرنا ہے۔

اس موقع کا مقصد تمام شہریوں اور رہائشیوں کو سب کے لیے زیادہ پائیدار مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے کے علاوہ گرین سعودی انیشیٹو کے اہداف کے حصول میں مملکت میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں