عالمی ادارہ صحت کی جانب سے غزہ سے مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی روکے جانے کی سخت مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ غزہ میں زخمیوں و مریضوں کو علاج کے لیے منتقل کرنے میں پچھلے تین ہفتوں سے پیدا کردہ رکاوٹ کے باعث خطرہ ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

خیال رہے عالمی ادارہ صحت طویل عرصے سے اسرائیل سے یہ اپیلیں کر رہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مریضوں اور زخمیوں کو غزہ سے باہر جانے کے لیے اجازت دے تاکہ ان کا علاج ممکن ہو سکے۔

ایک اندازے کے مطابق غزہ کے رہنے والے ہزاروں فلسطینیوں کو علاج معالجے کے لیے غزہ سے باہر لے جانے کی ضرورت ہے لیکن مسلسل ناکہ بندیوں کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہو رہا۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس کا کہنا ہے 'جب سے اسرائیل نے گنجان آباد شہر رفح پر حملہ شروع کیا ہے تب سے غزہ کے لیے ادویات کی سپلائی اچانک رک گئی ہے۔ ہیرس نے کہا ہے کہ اس صورتحال میں خطرہ ہے کہ علاج معالجہ نہ ملنے کے باعث مزید بہت سارے لوگوں کی ہلاکتیں ہو جائیں گی۔'

یاد رہے سات اکتوبر 2023 سے پہلے ہر روز 50 سے 100 فلسطینی غزہ سے باہر علاج معالجے کے لیے جاتے تھے۔ ان میں کینسر کے مریض اور دوسرے مہلک امراض میں مبتلا لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی تھی۔ لیکن سات اکتوبر کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ اب اسرائیلی فوج کی اجازت کے بغیر کوئی غزہ سے باہر نہیں جا سکتا۔

ترجمان کے مطابق 'اس وقت یہ صورتحال ہے کہ ایسے ہزاروں ایسے مریض اور زخمی موجود ہیں جن کا علاج غزہ میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے انہیں فوری طور پر غزہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے انہیں سب سے پہلے مصر لے جانا ضروری ہے۔ اگر ان کو علاج نہ ملا تو افسوس کے ساتھ کہوں گی کہ ان کے لیے مرنے کا خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔ '

وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں اب تک 36096 فلسطینیں ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان ہیرس نے کہا 'غزہ کے فلسطینیوں میں سے 10 ہزار ایسے ہیں جنہیں علاج معالجے کے لیے فوری غزہ سے نکالنا ہوگا۔ ان میں سے چھ ہزار فلسطینی ایسے ہیں جو سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔'

ہیرس نے بتایا 'عالمی ادارہ صحت نے اس سے پہلے ایک فہرست تیار کی تھی جن میں 5800 ایسے فلسطینی مریض اور زخمی شامل تھے جنہیں علاج معالجے کے غزہ سے باہر نکالنا تھا۔ لیکن اسرائیل نے صرف ایک ہزار فلسطینی مریضوں کو علاج معالجے کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی۔'

ہیرس نے اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کے کیمپ پر لگائی گئی آگ سے شدید جلے ہوئے فلسطینیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ' ان کا علاج بہت ضروری ہے۔ اگر انہیں علاج کی سہولت میسر نہ آئی تو یہ مر جائیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں