رفح حملے میں استعمال ہونے والا گولہ بارود امریکہ کا دیا ہوا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

رفح پر حملے میں تازہ بیسیوں ہلاکتوں نے اسرائیل کی غزہ جنگ کے بارے میں توجہات کو 'ری فریش ' کر دیا ہے۔ ایک طرف ان بے رحمانہ بمباری سے کی گئی ہلاکتوں نے عالمی سطح پر کام کرنے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے حال میں جاری ہونے والے احکامات اور خبروں کو مزید درست اور مستند کر دیا ہے تو دوسری جانب اسرائیل کے ہاتھوں سے فلسطینیوں پر چلائے جانے والے اسلحے کی ساخت اور طاقت کو زیر بحث لانے کا سامان کر دیا ہے۔

اس جانب توجہ بڑھ جانے کی وجہ ان اسلحہ ماہرین کا یہ انکشاف ہے کہ رفح میں نقل مکانی کی زندگی گذارنے والے غزہ کے بے گھروں کے خیموں کو آگ لگا کر انہیں جھلسا دینے والا اسلحہ کسی اور ملک کا نہیں امریکہ کا ہی بنا ہوا تھا۔ یہ انکشاف ان لوگوں کے لیے زیادہ حیران کن رہا جو یہ سمجھ چکے تھے کہ بڑے بڑے ملک اسلحے کے فروخت کنندہ ہوں یا خریدار ہوں وہ پرچون میں لین دین کرتے ہیں اور ہر روز کی ضروریات کے لیے ہر روز ہی ہتھیار خریدتے اور بیچتے ہیں۔ انہیں ماہرین اسلحہ بارود کا یہ انکشاف حیران کن لگا کہ امریکہ نے تو رفح کے لیے اسلحہ نہ دینے کا رواں ہفتوں میں ہی اعلان کیا تھا پھر یہ اسلحہ امریکی ساختہ کیسے ہو گیا ؟

بلا شبہ اچھا اور کارگر اسلحہ خریدنے والے ملک اگلے کئی برسوں کے اہداف اور جنگوں کی ضروتوں کو خیال میں رکھ کر خریداری کرتے ہیں۔ فوجوں کے اسلحہ ڈپو اسی لیے ملکوں ملکوں موجود ہوتے ییں۔

تقریبآ یہی چیز ماہرین بارود کے رفح حملے کے بعد کے تجزیے سے سامنے آئی ہے کہ اتوار کو رفح میں بے گھر افراد کے خیموں پر اسرائیلی حملے میں امریکی ساختہ گولہ بارود استعمال کیا گیا ۔ اس واقعے میں درجنوں افراد کی جانیں گئیں ۔۔گویا امریکہ کے وقتی طور پر گولہ بارود روکنے سے اسرائیل خالی ہاتھ نہیں ہو گیا تھا ۔ بلکہ اس کے پاس پہلے سے موجود امریکی گولہ بارود کی وافر مقدار تھی ۔ یا کسی اور توسط سے امریکہ کا ساختہ اسلحہ اسے مسلسل دستیاب کیا گیا ہے۔

امریکی سی این این کے اس واقعے کے بارے میں تجزیے کے مطابق، جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو، جس کا دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ماہرین نے تجزیہ کر کے انکشاف کیا ہے کہ رفح میں پناہ گزینوں کے لیے لگائے گئے کیمپ پر حملے میں استعمال ہونے والا گولہ بارود امریکی ساختہ ہی تھا۔

سی این این نے جغرافیائی محل وقوع سے متعلق ویڈیو کلپس جو 'کویت پیس کیمپ 1' کے نام سے مشہور بے کیمپ پر چھاپے کے بعد خیموں میں آگ لگتے ہوئے دکھائے۔یہ ماڈل GBU-39 سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے۔

ایک ویڈیو میں کیمپ کے داخلی راستے کے نشان اور زمین پر ٹائلوں سمیت تفصیلات کو ملا کر اسی منظر کا حوالہ دیا، اس میں امریکی ساختہ چھوٹے قطر والے GBU-39 بم (SDB) کی دم بھی دکھائی گئی۔ جو اسلحے کے امریکہ ساختہ ہونے کی گواہی کہی جا سکتی ہے۔ دھماکہ خیز اسلحے یا ' ویپن٫ آف ماس ڈسٹریکشن 'کے چار ماہرین نے ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد اپنا جائزہ پیش کیا ہے۔ '

دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ماہر کرس کوب سمتھ نے وضاحت کی کہ بوئنگ کے ذریعہ تیار کردہ GBU-39 بم ہے۔ اسے اسٹریٹجک اہمیت کے اہداف پر حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اس کی وجہ سے ' کولیٹرل ڈیمیج ' کم ہوتا ہے۔ '

تاہم، اسمتھ، جو کہ برطانوی فوج کے توپ خانے کے سابق افسر بھی ہیں، ان کا کہنا ہے کسی بھی گولہ باری کا استعمال، گنجان آبادی والے اور پرہجوم علاقے میں ہمیشہ خطرات اور نقصان کا سبب ہی ہو گا۔'

اسی طرح ٹریور بال، امریکی فوج کی دھماکہ خیز آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم کے سابق سینئر رکن نے اشارتا کہا ہے کہ موقع پر بم کا ٹکڑا GBU-39 بم کا تھا۔ پال نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ GBU-39 بم کا ایک مختلف قسم تھا جسے' فوکسڈ لیتھل میونیشن' (FLM) کہا جاتا تھا جس میں بڑا دھماکہ خیز پے لوڈ ہوتا تھا لیکن اسے کم کولیٹرل ڈیمیج کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن اس کیس میں استعمال ہونے والا ویریئنٹ نہیں تھا۔

اس کے علاوہ، دو اضافی دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ماہرین، رچرڈ ویئر، ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینئر اور تنازعات کے محقق کرس لنکن جونز، جو ایک سابق برطانوی فوج کے توپ خانے کے افسر اور ہتھیاروں اور ہدف سازی کے ماہر بھی ہیں، نے اس ٹکڑے کی شناخت ایک امریکی ساختہ کے طور پر کی ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے اور غزہ پر حملے پر بائیڈن انتظامیہ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باوجود یہ حمایت مسلسل جاری رکھی ہے۔ ابھی پچھلے مہینے ہی جو بائیڈن نے ایک غیر ملکی امدادی بل پر دستخط کر کے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کے لیے 26 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دی ہے ۔

اس امداد میں سے 15 ارب ڈالر اسرائیلی فوجی امداد، 9 بلین ڈالر غزہ کے لیے انسانی امداد، اور 2.4 بلین ڈالر علاقائی امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے شامل ہیں۔

علاوہ ازیں بھی ایک ارب ڈالر کی مزید امریکی امداد اسرائیل کے لیے اب پراسس میں ڈال دی گئی ہے۔

ماہرین میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکی اسلحہ کی اگر وقتی طور پر ترسیل روکی گئی ہے تو اس سے پہلے والی اسلحہ کھیپ کے استعمال پرتو کوئی پابندی نہ تھی کہ اسے اسرائیل استعمال نہ کر سکتا تھا۔ یہ غزہ جنگ تو اکیلے اسرائیلی کی لڑی گئی جنگ ہی نہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں