اسرائیلی حکومت کو دھچکا : جنگی وزیر بینی گانٹز نے پارلیمنٹ توڑنے کی تجویز دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز نے تجویز کیا ہے کہ پارلیمنٹ کو توڑنے کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ بینی گانٹز سینٹریسٹ پارٹی کے سربراہ ہیں ۔ نیتن یاہو کے سخت مخالفین میں سے ایک ہیں یاہو کی انتہاپسند اتحادی جماعتوں سے ان کے نظریات میں تصادم ہے۔ تاہم سات اکتوبر کی جنگ میں انہوں نے جنگی کابینہ کا رکن بننا قبول کر لیا تھا۔

ان کا اس دوران کئی بار نیتن یاہو کی حکومت کے ساتھ اختلاف رائے سامنے آچکا ہے۔ مگر جب جمعرات کے روز انہوں نے پارلیمنٹ توڑنے لیے ووٹ کرانے کی تجویز پیش کی تو یہ ابھی واضح نہیں تھا کہ آیا انہیں قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے کافی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔ کیا ان کی پارلیمنٹ توڑنے کی کوشش کامیابی کے لیے مطلوبہ ووٹ حاصل کر سکے گی ۔

ان کی طرف سے یہ تجویز پہلے سے دیے گئے اس الٹی میٹم کے بعد سامنے آئی ہے جو گانٹز نے اسی ماہ کے شروع ماہ جاری کیا تھا۔ اس الٹی میٹم میں کہا گیا تھا کہ وہ وزیر اعظم نیتن یاہو کا 8 جون کے بعد جنگی منصوبے میں ساتھ نہیں دیں گے اور جنگی کابینہ سے الگ ہو جائیں گے۔

گانٹز کا سینٹرسٹ بلاک مارچ ہی میں الگ ہو گیا تھا تاہم ان کی پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی سیٹیں نہیں ہیں کہ وہ حکمران اتحاد کی حکومت کو گرا سکے۔

نیتن یاہو نے اپنی جنگی کابینہ کے اس رکن کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے اسرائیل کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ حکومت ختم کرنے سے جنگ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں