ایرانی رہنما خامنہ ای کی غزہ کی حمایت کرنے پر امریکی یونیورسٹی کے طلباء کی تعریف

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہونے والے مظاہرے یورپ اور دیگر ممالک تک پھیل گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کے اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای نے غزہ جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے پر احتجاج کرنے پر امریکہ میں یونیورسٹی کے طلباء کی تعریف کی ہے۔

خامنہ ای نے کہا، "اب آپ نے مزاحمتی محاذ کی ایک شاخ تشکیل دے دی ہے۔" وہ تہران سے منسلک مسلح گروہوں کا حوالہ دے رہے تھے جو شرقِ اوسط میں اسرائیل کے خلاف صف آراء ہیں۔ اسے محورِ مزاحمت بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک خط میں کہا، "جوں جوں تاریخ کا صفحہ پلٹ رہا ہے، آپ اس کی درست سمت میں کھڑے ہیں۔"

ریاست ہائے متحدہ کی یونیورسٹیاں اپریل میں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں سے لرز اٹھی تھیں جن کی وجہ سے کیمپس میں طلباء کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور درجنوں افراد کی گرفتاری ہوئی۔

یہ مظاہرے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے اور بعد میں پورے ملک کے ساتھ ساتھ یورپ اور دیگر جگہوں پر بھی پھیل گئے۔

سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ شام، لبنان، عراق اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں سے گشیدگی بڑھی ہے جس کی وجہ سے تہران نے گذشتہ مہینے اسرائیل پر براہِ راست سینکڑوں میزائل اور راکٹ داغے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں