ایران کا رئیسی کی جگہ پُر کرنے کی غرض سے صدارتی انتخابات کے لیے رجسٹریشن کا آغاز

ایران اس وقت علاقائی کشیدگی کے ساتھ اندرونی مسائل اور معیشت کے انحطاط کا شکار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران نے مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی جگہ پُر کرنے کی غرض سے 28 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں شرکت کے خواہشمند امیدواروں کے لیے جمعرات کو پانچ روزہ رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ رئیسی اس ماہ کے وسط میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں سات دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران 19 مئی کے حادثے کے نتائج نیز تہران اور ریاست ہائے متحدہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے جن میں 2022 میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی زیرِ حراست موت پر ہونے والے مظاہرے بھی شامل ہیں جنہوں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

جبکہ ریاست کے تمام معاملات میں اعلیٰ ترین راہنما 85 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رائے حتمی درجہ رکھتی ہے، ماضی میں صدور نے اسلامی جمہوریہ ایران کا جھکاؤ مغرب کے ساتھ زیادہ تعامل یا بڑھتی ہوئی دشمنی کی طرف کر دیا ہے۔

پانچ دن کی مدت میں کم از کم ماسٹر ڈگری کے حامل 40 سے 75 سال کی عمر کے افراد ممکنہ امیدواروں کے طور پر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔

تمام امیدواروں کا بالآخر ایران کی 12 رکنی شوریٰ نگہپان سے منظور ہونا ضروری ہے جو خامنہ ای کے زیرِ نگرانی علماء و فقہاء کا ایک پینل ہے۔

اس پینل نے مثلاً کبھی بھی کسی خاتون کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے ملک کی حکمرانی میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

خامنہ ای کے حمایت یافتہ اور منظورِ نظر رئیسی نے ایران کے 2021 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی جب شوریٰ نگہپان نے تمام امیدواروں کو نااہل قرار دے کر انہیں ممکنہ طور پر چیلنج کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔

اس ووٹنگ میں صدارتی انتخابات کے لیے ایران کی تاریخ کا کم ترین ٹرن آؤٹ دیکھا گیا۔

یہ ممکنہ طور پر رائے دہندگان کے عدم اطمینان کی علامت تھی جو جزوی طور پر 1988 میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر امریکہ کے ناپسندیدہ ایک سخت گیر مولوی اور 1979 کے انقلاب کے بعد چار عشروں کے دوران ایران کی شیعہ ملائیت کی وجہ سے بیزار تھے۔

ملک کو کون چلائے گا - اور ممکنہ طور پر قبول کیا جائے گا - یہ سوال بدستور باقی ہے۔ ملک کے قائم مقام صدر محمد مخبر جو پہلے پسِ پردہ رہنے والے بیوروکریٹ تھے، سب سے آگے ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی خامنہ ای سے ملاقات کرتے دیکھے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ممکنہ امیدواروں میں سابق سخت گیر صدر محمد احمدی نژاد اور سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا گیا لیکن کیا انہیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے گی، یہ ایک اور سوال ہے۔

پانچ دن کی رجسٹریشن کی مدت منگل کو ختم ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ شوریٰ نگہپان اس کے بعد 10 دنوں کے اندر امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرے گی۔ اس سے جون کے آخر میں ووٹنگ سے پہلے دو ہفتوں کی مختصر انتخابی مہم ممکن ہو سکے گی۔

نئے صدر اس وقت عہدہ سنبھالیں گے جب ملک اب تقریباً ہتھیاروں کے درجے کی سطح پر یورینیم کو افزودہ کر رہا ہے اور بین الاقوامی معائنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایران نے یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملہ بھی کیا۔

تہران شرقِ اوسط میں یمن کے حوثیوں اور لبنان کی حزب اللہ کی طرح پراکسی گروپوں کو بھی مسلسل اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

دریں اثنا ایرانی معیشت کو اپنی انحطاط پذیر ریال کرنسی پر کئی سالوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک کو بڑے پیمانے پر مظاہروں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جن میں ایک خاتون مہسا امینی کی زیرِ حراسب موت پر ہونے والے مظاہرے شامل ہیں جنہیں حال ہی میں مبینہ طور پر حکام کی پسند کے مطابق لازمی حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ایک پینل نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اس "جسمانی تشدد" کی ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے امینی کی موت واقع ہوئی۔

رئیسی صرف دوسرے ایرانی صدر ہیں جن کا عہدے پر رہتے ہوئے انتقال ہوا۔ قبل ازیں 1981 میں ایرانی انقلاب کے بعد افراتفری کے دنوں میں ایک بم دھماکے میں صدر محمد علی رجائی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں