جنگ کے باوجود فوج کو ’لامحدود رقم‘ نہیں ملنی چاہیے: سربراہ مرکزی بینک اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کو بنک آف اسرائیل کے گورنر امیر یارون نے اسرائیل کے دفاعی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ میں فوج کو "بلینک چیک" (لامحدود رقم) کی ضرورت نہیں ہے۔

یارون جنوری سے ایسے اقدام پر زور دے رہے ہیں جب قانون سازوں نے جنگ کے وقت کے ایک ترمیم شدہ بجٹ کی منظوری دی تھی۔ اس میں غزہ میں اور لبنانی محاذ پر لڑائی کے لیے دسیوں ارب شیکل کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس لڑائی کا اب یہ آٹھواں مہینہ جاری ہے۔

یارون طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ بجٹ خسارے کو قابو سے باہر ہونے سے بچانے کے لیے دفاعی اور دیگر جنگی اخراجات میں اضافے کی بنا پر مالیاتی مطابقت پیدا کی جائے۔

یارون نے کالج آف مینجمنٹ اکیڈمک سٹڈیز میں ایک کانفرنس میں کہا، "ایک خوشحال معیشت کے لیے سکیورٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور سکیورٹی کے لیے ایک خوشحال معیشت کی۔ اس لیے جنگ کو مستقل دفاعی اخراجات کے لیے اپنے ساتھ ایک خالی چیک نہیں لانا چاہیے۔ اور ہمیں مناسب توازن تلاش کرنا ہوگا۔"

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مجموعی گھریلو پیداوار کے فیصد کے طور پر حالیہ برسوں میں اسرائیل کے دفاعی اخراجات میں کمی آئی ہے - اور یہ کہ اب اضافی اخراجات میں سالانہ 20 بلین شیکل (5.4 بلین ڈالر) بڑھنے کے ساتھ یہ تبدیل ہو جائے گا۔

اپریل میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے سات فیصد ہونے پر، 2024 کے چھے اعشاریہ چھے فیصد ہدف سے زیادہ اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے ساتھ وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے دفاعی اخراجات کی نگرانی کے لیے ایک پینل طلب کیا تھا۔ لیکن وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے اس کی مخالفت کی حتیٰ کہ بدھ کے روز سموٹریچ کے مطابق دونوں نے ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا۔

دفاعی بجٹ کے تنازعے بشمول سموٹریچ کے امریکی لڑاکا طیاروں کی خریداری پر نظرِ ثانی کے مطالبے نے نیتن یاہو کی کابینہ کے اندر پہلے سے ہی موجود شدید تناؤ کو اور ہوا دی جو غزہ جنگ سے نمٹنے کے حوالے سے اختلافات کی بنا پر کشیدگی کا شکار ہے۔ سموٹریچ نیتن یاہو اور گیلنٹ والی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔

سموٹریچ نے کہا کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے اور اس کے نتیجے میں غزہ پر اسرائیلی حملے نے اس بارے میں کئی بنیادی مفروضوں کو نقصان پہنچایا کہ دفاعی بجٹ کا انتظام کیسے کیا گیا۔ انہوں نے کہا، اس طرح دفاعی اخراجات کو موجودہ خطرات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے جبکہ مجموعی طور پر سلامتی اور معیشت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔

گیلنٹ اس پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

یارون نے کہا کہ کمیٹی سال کے آغاز میں قائم ہونی چاہیے تھی کیونکہ جنگ پر 2023 اور 2025 کے درمیان 250 بلین شیکل لاگت آئے گی۔

انہوں نے کہا، "یہ یقیناً بجٹ کا بوجھ ہے۔ مزید برآں مستقبل کے دفاعی بجٹ میں میکرو اکنامک اثرات کے ساتھ مستقل بنیادوں پر اضافہ متوقع ہے۔ کمیٹی کو ان لائحہ عمل کو مجموعی طور پر کثیر سالہ نقطۂ نظر سے جانچنا چاہیے جس میں دفاعی نظام کی کارکردگی بڑھانے کی جاری ضرورت ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں