اگر اسرائیل جنگ روک دے تو 'مکمل معاہدے' کے لیے تیار ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کا کہنا ہے کہ اس نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جاری جارحیت کے دوران مزید مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی لیکن اسرائیل کے جنگ بند کر دینے کی صورت میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے سمیت ایک "مکمل معاہدے" کے لیے تیار ہے۔

غزہ جنگ میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم کے درمیان جنگ بندی کا بندوبست کرنے کے لیے مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں اور فریقین ایک دوسرے پر پیش رفت میں رکاوٹ کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

حماس کا تازہ ترین بیان اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ اسرائیل غزہ کے جنوبی شہر رفح پر فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اسے یہ کارروائی روک دینے کا حکم دیا ہے۔

حماس کے بیان میں کہا گیا، "حماس اور فلسطینی دھڑے ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت، محاصرے، فاقے اور نسل کشی کے پیشِ نظر (جنگ بندی) مذاکرات جاری رکھ کر اس پالیسی کا حصہ بننا قبول نہیں کریں گے۔"

اس میں مزید کہا گیا، "آج ہم نے ثالثوں کو اپنے واضح مؤقف سے آگاہ کر دیا کہ اگر قابض افواج غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور جارحیت روک دیں تو ہم ایک مکمل معاہدہ طے کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں ایک جامع تبادلہ معاہدہ بھی شامل ہے۔"

اسرائیل نے حماس کی ماضی کی پیشکشوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی تباہی پر تلے ہوئے گروہ کا صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی رفح میں جارحیت یرغمالیوں کو بچانے اور حماس کے مزاحمت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر مرکوز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں