عراق میں آٹھ دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے سلامتی سے متعلق ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز دہشت گردوں کے گروپ کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔یہ لگ بھگ ایک مہینے میں تیسری بار دی گئی پھانسی ہے۔ اس موقع پر مجموعی طر پر آٹھ دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی۔

عراق کی عدالت نے حالیہ برسوں میں سینکڑوں افراد کو سزائے موت یا سزائے عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے سزائے موت دینے کے ان واقعات کی مذمت کی ہے ۔

خیال رہے کہ عراقی قانون کے مطابق عراق میں دہشت گردی اور قتل ایسے جرائم کے لیے سزائے موت دی جاتی ہے، تاہم سزائے موت کے ان فیصلوں کے لیے عراقی صدر کے دستخط ہونا ضروری ہیں ۔عراق میں سلامتی سے متعلق ایک ذریعہ نے بتایا ہے داعش سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گردوں کو جمعرات کے روز پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ پھانسی پر لٹکانے کا یہ واقعہ ناصریہ میں ہوا ہے ۔اس سزا پر عملدرآمد کی نگرانی وزارت انصاف کی ٹیم کے سپرد تھی ۔

آٹھوں دہشت گردوں کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے آرٹیکل چار کے مطابق دی گئی ہے ۔محکمہ صحت کے زرائع کے مطابق انہیں ان آٹھ افراد کی پھانسی کے بعد ان کی ڈیڈ باڈیز موصول ہو گئی ہیں ۔

الحوت ایسی بدنام زمانہ عجیل میں سزا دی گئی ہےاس جیل کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ جو اس جیل میں ایک بار چلا گیا پھر وہ اپنے پاؤں پر واپس نہیں آ سکتا۔ اسی ماہ چھ مئی کو بھی گیارہ دہشت گردوں کو پھانسی دی گئی تھی ۔

گیارہ پھانسیوں کی وزارت سلامتی امور اور وزارت صحت نے بھی تصدیق کی ہے ۔22 اپریل کے بعد یہ دوسرے گروپ کو پھانسی دی گئی تھی ۔ عراق کو اس وجہ سے بعض ملکوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ عراق میں سزائے موت دیے جانے کا رواج اب بھی باقی ہے ۔انسانی حقوق کے گروپوں نے ان دی گئی پھانسیوں کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے ۔

جنوری کے اواخر میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے عراق میں سزائے موت دینے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں