اسرائیل کےلپیڈ کا یرغمالیوں کی رہائی کےمعاہدے پروزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حمایت کااعلان

"میز پر معاہدہ موجود ہے اور حکومت کو یہ قبول کر لینا چاہیے۔" لیپڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قائدِ حزبِ اختلاف یائر لیپڈ نے ہفتے کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو وہ ان کی حمایت کریں گے۔ ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت داروں نے اس معاہدے کی پہلے مخالفت کی تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ہاتھوں اسیر یرغمالیوں کی رہائی سمیت مکمل جنگ بندی کے لیے ایک نیا لائحہ عمل پیش کیا تھا۔

نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی بشمول قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ پہلے دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر حماس کی تباہی کے بغیر جنگ ختم ہوئی تو وہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔

لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: "میں نیتن یاہو کو یاد دلا دوں کہ اگر بین گویر اور سموٹریچ حکومت چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے پاس یرغمالیوں کے معاہدے کے لیے ہمارا حفاظتی جال موجود ہے۔"

لیپڈ نے کہا، "اسرائیلی حکومت صدر بائیڈن کی اہم تقریر کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔" نیز انہوں نے کہا، "میز پر ایک معاہدہ موجود ہے اور اسے یہ لے لینا چاہئے۔"

نیتن یاہو نے ہفتے کے روز اصرار کیا کہ حماس کی تباہی بائیڈن کے وضع کردہ اسرائیلی منصوبے کا حصہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں