ایران: شراب نوشی کرنے والے 'شیطانی نیٹ ورک' کے اجتماع پر چھاپہ 35 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی سیکورٹی فورسز نے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں ایک چھاپے کے دوران 35 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سیکورٹی حکام نے گرفتار کیے گئے ان افراد کو شیطانی نیٹ ورک سے جڑے قرار دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے اس کارروائی کو ہفتے کے روز رپورٹ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'آئی ایس این اے' کی رپورٹ کے مطابق حکام نے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں مبینہ شیطانی نیٹ ورک کے اجتماع پر چھاپہ مار کر 35 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اس اجتماع کی اطلاع مقامی پولیس نے متعلقہ سیکورٹی حکام کو دی تھی۔ جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ اس گروہ کے لوگ اجتماع کے دوران شراب اور منشیات کا مبینہ طور پر استعمال کر رہے تھے۔ کیونکہ اجتماع کی جگہ سیکیورٹی حکام کو نشہ آور اشیا کی باقیات اور نشانیاں ملی ہیں۔

ایران میں اسطرح کے اجتماعات پر چھاپہ مارنا عام طور پر معمول سمجھا جاتا ہے۔

اس طرح کی پارٹیاں کرنے والوں کو عام طور پر گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف مقدمے چلائے جاتے ہیں۔ کیونکہ ایران میں شراب نوشی اور منشیات کے استعمال پر پابندی ہے۔

شراب نوشی کے ساتھ پارٹیوں یا کنسرٹس کو سیکیورٹی فورسز نشانہ بناتی ہیں۔ ایران میں اس طرح کی تقریبات پر عام طور پر پابندی ہے۔

خبر رساں ادارے نے خوزستان کے شہر دیزفل کے پولیس چیف روح اللہ یاریزادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 'شیطانی نیٹ ورک' کے اجتماع میں شریک 31 مرد اور 4 عورتیں حراست میں لی گئی ہیں۔

ماہ مئی کے دوران ، پولیس نے اسی طرح کے الزامات کے تحت دارالحکومت تہران کے مغربی حصے میں تین یورپی باشندوں سمیت 250 سے زائد ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا۔

تہران کے قریب ایک غیر مجاز 'راک کنسرٹ' پر 2007 کے چھاپے میں تقریباً 230 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ایرانی حکام ماضی میں راک اور ہیوی میٹل میوزک تقریبات کو شیطان پرستوں کے اجتماعات قرار دیتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں