رفح سے نقل مکانی، غزہ میں خوراک کی فراہمی مزید کم ہو گئی: سربراہ عالمی خوراک پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے عالمی پروگرام برائے خوراک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کا رفح شہر پر زمینی حملہ شروع ہونے کے بعد سے جنوبی غزہ کے حالات مزید دگر گوں ہو گئے ہیں۔ تاہم عالمی پروگرام برائے خوارک کے مطابق شمالی غزہ میں خورا

ک کی فراہمی میں قدرے بہتر ہوئی ہے۔

عالمی خوراک پروگرام کے ڈائریکٹر میتھیو ہولنگ ورتھ نے کہا ' ہم پچھلے بیس دنوں سے رفح میں امدادی سامان کی نقل و حرکت اور خروج کی جو حالت دیکھ رہے ہیں وہ ہولناک ہے۔ ' خیال رہے سات مئی سے رفح پر اسرائیلی حملہ شروع ہوا ہے اور تب سے رفح راہداری کا کنٹرول اسرائیلی فوج نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ میتھیو ہولنگ ورتھ اسی پس منظر میں آن لائن بریفنگ دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا 'لوگوں کو اسرائیلی حملے کے بعد رفح شہر سے بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ لیکن وہ جن علاقوں کی طرف جا سکتے تھے وہاں پینے کے پانی اور خوارک کے علاوہ ایندھن اور صحت سے متعلق ضروریات کی فراہمی بھی زیادہ مشکل ہے۔ بلکہ صحت کے مسائل اس قدر گھمبیر ہیں کہ انہیں بحران سے آگے کی سطح پر بیان کرنا چاہیے۔'

انہوں نے کہا ' رفح کے لوگ جنگی آوازوں یعنی بمبوں کی آوازوں سے سوتے ہیں اور انہیں کی آوزاوں میں جاگتے ہیں۔ عالمی خوراک پروگرام کے ڈائریکٹر نے کہا ' ایندھن کی رسد کے نہ ہونے یا بند ہو جانے کی ہماری بیکریاں بھی بند ہوتی رہیں۔ کبھی چلائی جاتی رہیں، اس طرح خوراک کی فراہمی کی کمی کے ؐاحول میں ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ یہ ایک مشکل صورت حال ہے۔ '

میتھیو ہولنگ ورتھ نے کہا سات مئی کو ہونے والے حملے سے 20 مئی تک پہنچی اسرائیلی جنگ کے دوران ان کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے کا ایک ٹرک بھی مصری سرزمین سے سامان لے کر رفح کے راستے گذر سکا نہ غزہ میں داخل ہو سکا۔ حتیٰ کہ جنوب مین اپنے مرکزی گودام تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا عالمی خوراک پروگرام کا گودام جس علاقے میں تھا، یہ انخلا کا علاقہ تھا۔ جہاں ہمارے 2700 ٹن خوراک کے ٹرک اسرائیلی لڑائی کے دوران تباہ کر دیے گئے یا لوٹ لیے گئے۔ اب خوارک کی ترسیل معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

انہوں نےکہا غزہ سے متصل سمندر میں امریکہ نے جو عارضی بندر گاہ تعمیر کی ہے اسے بھی خراب موسم کی وجہ سے ماہ مئی میں نقصان پہنچا ہے۔ دو ہفتوں کے دوران اس امریکی بندر گاہ سے تقریباً ایک ہزار ٹن امدادی اشیا گزر سکی ہیں۔ ' مگر دوسری جانب نیتن یاہو برے مطمئن ہیں کہ خوارک میں قلت کا غزہ میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق علاقے میں یومیہ کیولریز کی کھپت تھی۔'

مگر میتھیو ہولنگ ورتھ کا کہنا ہے کہ میں نے کسی بھی کارکن کو 3000 کیلوریز یا اس سے زیادہ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں