مصر رفح راہداری پر اسرائیل اور امریکہ سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

راہداری کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد امداد کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ مصر اتوار کو رفح راہداری دوبارہ کھولنے کے معاملے پر مذاکرات کے لیے اسرائیلی اور امریکی حکام کی میزبانی کرے گا۔ یہ راہداری محصور غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

القاہرہ نیوز نے ہفتے کے روز ایک نامعلوم سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاہرہ مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع ٹرمینل سے "مکمل اسرائیلی انخلاء" کا مطالبہ کر رہا ہے۔

عہدیدار نے بتایا، "رفح راہداری دوبارہ کھولنے کے بارے میں بات کرنے کے لیے کل (اتوار کو) قاہرہ میں ایک مصری-امریکی-اسرائیلی اجلاس طے شدہ ہے۔"

مئی کے اوائل میں راہداری کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی افواج کے قبضے کے بعد سے یہ بند کر دی گئی جس سے جنگ زدہ علاقے میں امداد کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی تھی۔

تب سے مصر اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر رفح کے راستے امداد کی ترسیل روکنے کا الزام لگایا ہے۔ مصری حکام نے بین الاقوامی یا فلسطینی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے اسرائیلیوں کے ساتھ تعاون اور رابطہ کاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ بات چیت کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اقوامِ متحدہ کی امداد کو عارضی طور پر رفح کے قریب لیکن اسرائیل کے ساتھ غزہ کی سرحد پر کریم شالوم راہداری کی طرف موڑنے پر اتفاق کیا۔

بائیڈن نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل کے تجویز کردہ ایک کثیرالجہتی منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا، "جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا" ہے۔

القاہرہ کے حوالے سے ایک اہلکار نے کہا، مصر "حالیہ امریکی تجویز کی روشنی میں" جنگ بندی کے لیے "مذاکرات دوبارہ شروع کرنے" کی غرض سے "انتہائی شدت سے کوششیں" کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں