کیا بائیڈن کی تجویز سے غزہ جنگ ختم ہو جائے گی؟ پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب میں غزہ میں پائیدار جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی تجویز کا انکشاف کیا جس کے بعد غزہ میں جاری حماس اور اسرائیل کی جنگ کے بارے اور ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

امریکی صدر نے اس تجویز کی تفصیلات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی 3 مراحل پرمشتمل ہوگی۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔ اس دوران اسرائیلی فوج غزہ میں گنجان آباد علاقوں سے باہر نکل جائے گی۔ اس کے ساتھ بڑی تعداد کی دونوں طرف سےقیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان میں سیکڑوں فلسطینی جن میں بزرگ، زخمی اور خواتین شامل ہوں گی۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس مرحلے میں امریکی یرغمالیوں کی رہائی اور ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی باقیات کو ان کے اہل خانہ کو واپس کرنا شامل ہے۔

بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی سمیت غزہ کے تمام علاقوں میں فلسطینی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور انسانی امداد کے روزانہ 600 ٹرکوں کو غزہ جانے دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ روڈ میپ کے دوسرے مرحلے میں جنگ کا مستقل خاتمہ، باقی تمام قیدیوں، حتیٰ کہ مرد فوجیوں کا تبادلہ اور رہائی کے ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ اور مارے گئے قیدیوں کی باقیات کی واپسی عمل میں لائی جائے گی۔

مصری سینٹر فار اسٹریٹجک تھاٹ اینڈ اسٹڈیز کے نائب صدر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور’الحدث ڈاٹ نیٹ‘ کو خصوصی بیان کہا کہ امریکی صدرکی جانب سے اعلان کردہ تجویزجنگ کو مکمل ختم کرنے کے حوالے سے مزید کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان سوالوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا یہ اسرائیلی تجویز ہے یا امریکی تجویز؟ کیا اس تجویز کو پیش کرنےسے پہلے اس پرکوئی اسرائیلی-امریکی معاہدہ طےپایا تھا یا صدر بائیڈن نے اسےاسرائیل کے ساتھ بغیر ہم آہنگی کے پیش کیا؟ اگرتجویز اسرائیلی تھی تو بائیڈن نے اسرائیلی قیادت سے اسے قبول کرنے کا مطالبہ کیوں کیا؟۔

میجرجنرل الدویری نے نشاندہی کی کہ یہ واضح ہے کہ امریکی صدراسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاہو پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے تقریر میں براہ راست اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے جنگ بندی کی تجاویز کا ذکر کیا۔ بائیڈن کے اس بات کا یقین ہے یہ اسرائیلی حکومت جنگ ختم کرنے پر تیار نہیں۔ یہ تجویز مرحلہ وار اور تدریجی اصول پر مبنی ہے جو اس سے قبل مصرکی طرف سے پیش کی گئی تجویز سے کافی حد تک ملتی جلتی ہے۔

مصری دانشور نے مزید کہا کہ اس تجویز کا مقصد جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے اور مزاحمتی دھڑوں کے زیر حراست تمام قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی متفقہ تعداد کو رہا کیا جائے گا، تاہم قیدیوں کی تعدادف کے بارے میں مذاکرات کے ذریعے فیصلہ کیا جائےگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے اب تک کے سرکاری رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو اس تجویز پر تحفظات ہیں کیونکہ وہ حماس کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل نہیں کر پایا۔ اس لیے اسرائیلی موقف سب سے اہم رکاوٹ ہو گا تاہم نیتن یاہو کو جنگ بندی کے بغیر مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

میجر جنرل الدویری نے حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس بائیڈن کی تجویز کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے"۔ یہ تجویز کے ساتھ اسرائیل کے اندر علاقائی، بین الاقوامی اور مقامی معاملات کے حوالے سے اہم عوامل میں سے ایک ہو گا۔ حماس کی اعلان کردہ پوزیشن اسرائیل کو ایک بڑی مخمصے میں ڈال دے گی اور اس پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

الدویری نے مزید کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ نیتن یاہو کی ترجیح حکمران اتحاد کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک برقراررکھنا ہے اوراس جنگ سے فتح یاب ہو کر ابھرنا ہے۔ وہ اب تک ان اہداف کو حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں