سابق پاسداران کمانڈر ایرانی صدارتی امیدوار بننے کے لیے دوڑ میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدارتی امیدوار بننے کے لیے دوسروں کی طرح ایک ایسے ممکنہ امیدوار نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جسے امریکی پاسداران انقلاب کا حصہ ہوتے ہوئے امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے یہ شخص واحد حقانیان ہیں جو پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

تاہم دیگر ممکنہ امیدواروں کی طرح، واحد حقانیان کو بھی اعلی ایرانی فورم کی طرف سے کاغذات نامزدگی کی منظوری کا انتظار ہے۔ خیال رہے ایران کے صدر بننے کے آرزو مندوں کو گارڈین کونسل نے چھلنی سے گذرنا ہو گا۔ وہ کاغذات کی سکروٹنی کے علاوہ متعلقہ شخصیت کا ایران کے نظریاتی تشخص اور انقلابی انداز حکومت سے ہم آہنگی اور شخصی کردار کا بھی جائزہ لینا ہوتا ہے۔

یہ اعلی ترین فورم جسے امیدواروں کے بارے میں حتمی منظوری دینے کا اختیار تفویض کیا گیا ہے یہ ایران کے اعلی ترین فقہا کا 12 رکنی فورم ہے جو عوامی عہدے کے لیے تمام امیدواروں کی جانچ کرنے کا ذمہ دار ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے نظریاتی بازو پاسداران انقلاب میں کمانڈر رہنے والے واحد حقانیان کے بارے میں عوامی سطح پر بہت کم آگاہی پائی جاتی ہیں۔ تاہم وہ ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی طرح ہی جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا نظریاتی پس منظر اور پاسداران سے وابستگی ہے وہ ایرانی مذہبی قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں 2019 میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار سامنے آنا ان کا ذاتی فیصلہ ہے مگر ملک کے مسائل اور چیلنجوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

ان کے بقول وہ صدر کی انتظامیہ اور سپریم لیڈر کے دفتر کی خدمات سے 45 سال تک خدمات سے جڑے رہے ہیں۔اس لیے سرکاری عہدیداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔

خیال رہے 19 مئی کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی ہلاکت کے بعد نئے انتخات ایران میں 28 جون کو متوقع ہیں۔

صدارتی انتخاب کے سلسلے میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کا سلسلہ 30 مئی سے شروع ہوا۔ پیر کا دن کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ہوگا۔ اس کے بعد باضابطہ سکروٹنی ہو گی۔

دیگر شخصیات جنہوں نے صدارتی امیدوار بننے کا اعلان کیا ہے کا اعلان کیا ہے ان میں تہران کے میئر علیرضا زکانی اور سابق قانون ساز زہرہ الہیان شامل ہیں صدارتی دوڑ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔

ایران سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی بھی شامل ہیں جنہیں اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے، ایران کے مرکزی بینک کے سابق گورنر عبدالناصر ہمتی اور انتہائی قدامت پسند سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی نے بھی امیدوار بننے کے خواہش مندوں میں شامل ہیں۔

صدارتی امیدواروں کی حتمی فہرست گارڈین کونسل 11 جون کو سامنے لائے گی۔اس سے پہلے جانچ کا عمل مکمل کرے گی۔ اس کونسل نے سابق اسپیکر لاریجانی سمیت 2021 میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے بعض اعتدال پسند امیدواروں کو نااہل قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں